اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ہندو انتہا پسندوں کا کشمیریوں پر ایک اور وار ، تشدد جائز قرار دیدیا 

datetime 8  مارچ‬‮  2019 |

نئی دہلی(آن لائن) دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہندو انتہا پسند تنظیم نے اپنی جماعت کے اراکین کی جانب سے کشمیریوں پر تشدد کرنے کی حمایت کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ بھارتی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے بعد مشکوک کشمیریوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر بھارتی شہر لکھن میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے 2 کشمیری پتھارے داروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل ہونے پر ہر طرف سے اس کی مذمت کی گئی لیکن بہت سے بھارتی شہریوں نے الٹا کشمیریوں پر ہی غصہ نکالا۔

ان حملہ آوروں کا تعلق بھارت کی انتہا پسند جماعت وشوا ہندو دل سے تھا جس کی قیادت نے اس اقدام کی مذمت کرنے کے بجائے اسے صحیح قرار دیا۔تنظیم کے سربراہ امبوج نگام کا کہنا تھا کہ ہاں میرے کارکنان نے انہیں پیٹا، کشمیری جہادیوں کی مدد سے بھارتی فوجیوں پر کیے گئے حملے کے بعد سے عوام میں اشتعال پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری ہمارے فوجیوں پر پتھر پھینکتے اور پاکستانی پرچم لہراتے ہیں، ہم کیوں یہ برداشت کریں؟امبوج نگم کا کہنا تھا کہ دونوں پتھارے دار ان کے کارکنان کو مشتبہ لگ رہے تھے اس لیے ان سے شناختی کارڈ مانگا، ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے کارکنان نے پولیس کو بھی بلوایا تھا لیکن انہوں نے آنے میں بہت دیر کی۔انہوں نے اس مار پیٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات، جب پولیس آنے میں دیر کرتی ہے تو ہمیں معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پڑتے ہیں۔وشوا ہندو دل کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے بھارت بھر میں اپنے 50 ہزار کارکنان کو کشمیریوں پر نظر رکھنے اور غیر قانونی معاملات میں ملوث ہونے پر انہیں چیک کرنے کا حکم دیا تھا۔  دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہندو انتہا پسند تنظیم نے اپنی جماعت کے اراکین کی جانب سے کشمیریوں پر تشدد کرنے کی حمایت کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ بھارتی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے بعد مشکوک کشمیریوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…