ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

لیبیا ،عدالت نے حماس کا سیل قائم کرنے کی کوشش میں گرفتارچار فلسطینی شہریوں کو17 سے 22 سال قید کی سزائیں سنا دیں

datetime 23  فروری‬‮  2019 |

طرابلس (این این آئی)لیبیا کی ایک عدالت نے چار فلسطینی شہریوں کو 17 سے 22 سال قید کی سزائیں سنا دی ہیں ،فلسطینیوں کو سیاسی بنیادوں پر انتقام کا نشانہ بنایا بناتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے لیبیا میں اسلامی تحریک مزاحمت کا سیل قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے لیبی عدالت کے فیصلے کوغیر منصفانہ اور سفاکانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ

فلسطینیوں نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا جس کی پاداش میں انہیں کڑی سزائیں دی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق لیبیا کی عدالت نے چارفلسطینیوں مروان عبدالقادر الاشقر، ان کے بیٹے براء ، موید جمال عابد اور نصیب محمد شبیر کو لیبیا کیخلاف سازش کے الزام میں حراست میں لیا گیا اور ان کیخلاف جعلی الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ چاروں کو اکتوبر 2016ء کو طرابلس سے گرفتار کیا گیاتھا اور دوران حراست انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لیبی جلادوں کے تشدد سے براء کی ایک آنکھ بھی ضائع ہوگئی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے لیبی عدالت کے فیصلے کو غیر منصفانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے فیصلے پر نظرثانی کرنے اور انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چاروں فلسطینی لیبیا میں کرنل قذافی کے دور سے رہائش پذیر ہیں۔ 56 سالہ مروان الاشقر طرابلس میں ایک ٹیکنالوجی کمپنی چلاتے ہیں جبکہ دیگر تینوں فلسطینی لیبیا کی جامعات میں زیر تعلیم ہیں۔ مروان بلند فشار خون اور ذیابیطس کے مریض ہیں مگرانہیں کسی قسم کی طبی امداد فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…