اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

اب یہ کوئی راز نہیں ہے کہ حراست میں رکھے گئے دس لاکھ سے زائد اویغور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،ترکی چین پر برس پڑا،افسوسناک انکشافات

datetime 10  فروری‬‮  2019 |

بیجنگ (این این آئی) چین میں اقلیتی مسلم اویغور برادری سے تعلق رکھنے والے ایک نامور موسیقار کی موت کی خبروں کے بعد ترکی نے چین سے اویغور مسلمانوں کے لیے بنائے جانے والے حراستی کیمپوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ان لوگوں کو حراستی کیمپوں میں اذیتیں دی جارہی ہیں۔ بیان میں ترکی نے کہا کہ اب یہ کوئی راز نہیں ہے کہ حراست میں رکھے گئے دس لاکھ سے زائد اویغور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا اور ان کا سیاسی طور پر برین واش کیا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنھیں حراست میں نہیں رکھا گیا ہے ان پر بھی شدید دباؤ ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اکسوی نے کہاکہ 21 ویں صدی میں پھر سے کنسینٹریشن کیمپوں (عقوبت خانوں) کا قائم کیا جانا اور اویغور مسلمانوں کے خلاف حکومت کی پالیسیاں انسانیت کو شرمسار کرنے والی باتیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ عبدالرحیم حیات کی موت کی خبر سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ترک عوام کے ردعمل کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں۔انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گوتریز سے چین انسانی المیے کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے پر زور دیا۔یاد رہے کہ عبد الرحیم حیات چین کے سنکیانگ علاقے میں آٹھ سال کی سزا کاٹ رہے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق چین کے ان حراستی کیمپوں میں تقریباً دس لاکھ اویغور مسلمانوں کو حراست میں رکھا گیا ہے۔  چین میں اقلیتی مسلم اویغور برادری سے تعلق رکھنے والے ایک نامور موسیقار کی موت کی خبروں کے بعد ترکی نے چین سے اویغور مسلمانوں کے لیے بنائے جانے والے حراستی کیمپوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…