بغداد(این این آئی)عراق کے ممتاز شیعہ رہ نما علی السیستانی نے کہا ہے کہ عراق کوکسی دوسرے ملک کو اذیت پہنچانے کے اڈے کے طورپر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔عراق کے پڑوسی ملکوں کے ساتھ متوازن تعلقات کے قیام کی ضرورت ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق
ایک بیان میں علی السیستانی نے کہا کہ قانون کا نفاذ تمام شہریوں اور ملک میں مقیم افراد پر یکساں ہونا چاہیے اوراسلحہ صرف حکومت کے پاس ہو۔ خلاف قانون غیرملکی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ قاتلانہ حملوں، اغواء کی روک تھام اور فکری اور سیاسی تعلقات کو بالائے طاق کرکے سب کا بے لاگ محاسبہ کیا جائے۔عراقی شیعہ عالم دین کا کہنا تھا کہ حکومت پر بھاری ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں۔ کرپشن کا خاتمہ، عمومی سروسز کی فراہمی، شہریوں کی مشکلات میں کمی بالخصوص البصرہ کے عوام کی بہبود کے اقدامات بڑے چیلنجز ہیں۔علی السیستانی نے تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ متوازن اور خوش گوار تعلقات کیقیام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ عراق کی طرف سے تمام پڑوسی ملکوں کے لیے محبت کا پیغام جانا چاہیے۔ عراقی حکومت کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے بچتے ہوئے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرے تاکہ ملک کی سلامتی اور خود مختاری کو نقصان نہ پہنچے اور مفادات بھی حاصل ہوجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔