پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

دنیا کی سستی ترین کار کی پروڈکشن بند کرنے کا فیصلہ

datetime 26  جنوری‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت میں تیار کی جانے والی سستی ترین کار کا نام ٹاٹا نینو رکھا گیا تھا۔ دس برس تک کار ساز ادارے کو مشکل حالات کا سامنا رہا لیکن اب اس کی مزید پروڈکشن بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دنیا کی سستی ترین کار ٹاٹا ٹینو کی

ہیت جیلی بین جیسی ہے۔ اس کو مشہور صنعتی گروپ ٹاٹا اپنے کار ساز کارخانے میں تیار کر کے مارکیٹ کر رہا ہے۔ تاہم اس ادارے نے اعلان کیا کہ ٹاٹا نینو اب مزید تیار نہیں کی جائے گی اور اس کی پروڈکشن اگلے برس اپریل سے مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔ٹاٹا موٹرز کے مطابق اس فیصلے کی وجہ سڑکوں پر گاڑیوں کی سلامتی کے لیے متعارف کرائے جانے والے نئے ضوابط کے علاوہ دھوئیں کے اخراج سے متعلق قواعد ہیں۔ کمپنی کے فیصلے کے مطابق اپریل سن 2020 کے بعد ٹاٹا نینو کو فروخت کے لیے ملکی کار مارکیٹ میں فراہم نہیں کیا جائے گا۔ٹاٹا نینو کو بہت زور و شور سے سن 2009 میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ اْس وقت اس کار کی قیمت محض بائیس سو امریکی ڈالر مقرر کر کے اِسے دنیا کی سستی ترین کار قرار دیا گیا تھا۔ ٹاٹا نینو بظاہر چھوٹی سی گاڑی ہے لیکن اس کے چار دروازے ہیں۔ٹاٹا نینو کی تیاری اور تخلیق کا سہرہ بھارت کے بڑے صنعتی گروپ ٹاٹا کے سربراہ رتن ٹاٹا کے سر جاتا ہے۔ رتن ٹاٹا عام متوسط طبقے کے بھارتی شہریوں کے لیے کم قیمت مگر بڑھیا کار متعارف کرانے کی سوچ رکھتے تھے۔ ایک موٹر سائیکل پر سوار شوہر اور بیوی کو گھریلو سامان کی خریداری کے ساتھ سڑکوں پر سفر کرتا دیکھ کر انہیں پریشانی لاحق ہوتی ہے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹاٹا نینو کار نے یقینی طور پر لاکھوں بھارتی شہریوں کی زندگیوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس کار کی وجہ سے ایک چھوٹے خاندان کو ایک مقام سے دوسری جگہ جانے میں راحت بھی میسر آئی اور بلا شبہ اسے دنیا کی سستی ترین کار قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب کئی ناقدین اور تجزیہ کاروں نے اسے کار صنعت میں ایک ناکام اختراع اور پیشکش بھی قرار دیا ہے۔ٹاٹا صنعتی گروپ چائے کی پیکنگ سے لے کر فولاد سازی تک بیشتر کاروباروں میں سرگرم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…