بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

لڑکیوں کی ناکافی غذا اور کم عمری میں شادی نامکمل نشوونما کی وجوہات

datetime 17  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی اتحاد برائے بہتر غذا کے کنٹری ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ کم عمری میں شادی اور لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو کم غذا دینا بچوں میں نامکمل نشوونما کی اہم وجہ ہیں۔ ڈاکٹر قیصر منیر پاشا نے یہ بات وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے زیر اہتمام

’پاکستان میں نوعمری میں غذا‘ کے موضوع پر ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکوں کو عام طور پر لڑکیوں سے زیادہ غذا دی جاتی ہے جس کی وجہ سے لڑکیاں کئی شعبوں میں لڑکوں کا مقابلہ نہیں کرپاتیں جبکہ نامکمل نشوونما کی حامل مائیں صحت مند بچے کو بھی جنم نہیں دے پاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں 41 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے اور سب سے بری صورتحال بلوچستان میں ہے، ہمیں اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ خواتین اور بچوں کو پوری طرح سے غذا ملے کیونکہ اس سے زچگی کے وقت ماؤں اور بچوں کی ہلاکت کی شرح کم کی جاسکتی ہے‘۔ صحت کے امور کے ماہر ڈاکٹر بشیر خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پیدائش کے بعد بچوں کے پہلے ایک ہزار دن غذا کی ضرورت کے حوالے سے انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک خطرناک وقت ہے جس میں غذائی قلت بالخصوص لڑکیوں میں زیادہ ہے۔ وزارت این ایچ ایس کے نمائندے ڈاکٹر خواجہ مسعود کا کہنا تھا کہ نو عمری میں غذا کے حوالے سے پلیٹ فارم کا قیام ہماری کامیابی کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا قیام نو عمری میں غذائی قلت کے حوالے سے اہم شراکت داروں کو صرف یکجا کرنا نہیں بلکہ ملک میں اس کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا بھی ہے‘۔ تقریب کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان پر غذائی قلت کا بڑا بوجھ ہے جس سے ہر سال تقریباً 7.6 ارب ڈالر یا جی ڈی پی کا 3 فیصد خرچ ہوتا ہے‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…