منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

پورے پاکستان میںشدید بارشوں کی پیش گوئی، الرٹ جاری

datetime 28  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں کل سے 2 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشیں ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔جاری کردہ الرٹ کے مطابق، پنجاب کے شمالی اور شمال مشرقی اضلاع میں 30 اور 31 اگست کے دوران شدید بارشوں کا خدشہ ہے، جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ان اضلاع میں راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، حافظ آباد اور منڈی بہاالدین شامل ہیں۔وسطی اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں بھی 29 سے 31 اگست کے درمیان بارشیں متوقع ہیں، جن کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے اور سیلابی کیفیت پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

متاثرہ اضلاع میں ملتان، ڈی جی خان، راجن پور، لیہ، بھکر، ساہیوال، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان شامل ہیں۔خیبر پختونخوا میں بھی 29 تا 31 اگست شدید بارشیں ہونے کا امکان ہے، خصوصاً ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں چترال، دیر، سوات، بونیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، نوشہرہ، مردان، ڈی آئی خان، ٹانک، کوہاٹ اور بنوں کے علاقے شامل ہیں۔آزاد کشمیر کے اضلاع مظفرآباد، باغ، حویلی، کوٹلی، میرپور اور بھمبر میں 29 اگست سے 2 ستمبر تک شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ہے۔گلگت بلتستان میں بھی 29 سے 31 اگست کے دوران بارشیں متوقع ہیں اور وہاں لینڈ سلائیڈنگ کے ساتھ ساتھ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں گلگت، اسکردو، ہنزہ، دیامر، استور، غذر اور گانچھے شامل ہیں۔سندھ کے ساحلی اضلاع کراچی، ٹھٹھہ، سجاول، بدین اور تھرپارکر میں 30 اگست سے 2 ستمبر تک بارشوں کا امکان ہے، جبکہ کراچی میں شہری سیلاب کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اندرون سندھ کے علاقے بشمول حیدرآباد، دادو، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، جیکب آباد اور کشمور میں 30 اگست سے یکم ستمبر تک موسلا دھار بارشیں متوقع ہیں۔بلوچستان کے ساحلی اور مشرقی اضلاع گوادر، کیچ، پنجگور، خضدار، لسبیلہ اور قلات میں بھی 29 اگست سے یکم ستمبر کے دوران بارشوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خطرہ ہے۔ مزید بارشوں کی صورت میں دریائے راوی، ستلج اور چناب کے کنارے موجود علاقوں میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔این ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں سے فوری رابطہ کریں۔ ادارے کے مطابق، متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تمام محکمے متحرک ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…