ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

محفوظ زون میں ترک فوجی مداخلت قبضہ تصور کی جائے گی : شامی کردکونسل

datetime 16  جنوری‬‮  2019 |

دمشق(این این آئی)شام میں کردوں کی نمائندہ سیرین ڈیموکریٹک کونسل کے سربراہ ریاض درار نے کہا ہے کہ شام میں جس محفوظ زون کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر طیب ایردوآن سے بات چیت کی ہے اس میں ترکی کی فوجی مداخلت یا کسی دوسرے مسلح گروپ کی

کوئی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔عرب ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ ترکی اور امریکا کے درمیان جس محفوظ زون کی بات چیت چل رہی ہے وہ ہرطرح کے تشدد اور لڑائی سے محفوظ ہونا چاہیے۔ شام کے متحارب فریقین میں سے کسی کی وہاں پر کوئی مداخلت اور اجارہ داری نہ ہو۔ ترکی کو بھی اس میں قسم کی فوجی مداخلت سے باز رکھا جائے۔ ریاض درار کا کہنا تھا کہ اگر ترکی محفوظ علاقے میں مداخلت کرتے ہوئے فوج داخل کرتا ہے تو اسے ترکی کا قبضہ تصور کیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں سیرین ڈیموکریٹک کونسل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ محفوظ زون کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ وہاں پر کسی متحارب فریق کو اپنی سرگرمی کی اجازت نہ دی جائے۔ کوئی انتہا پسند گروپ، عسکری تنظیم، اسد رجیم اور ترکی مداخلت نہ کرے۔خیال رہے کہ گذشتہ روز ترک صدر طیب ایردوآن نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ شام میں محفوظ زون کے قیام پر بات چیت کی ہے۔ یہ محفوظ زون شام میں کردوں کے زیرانتظام علاقے اور ترکی کی سرحد کے درمیان حد فاصل ہو گا۔ریاض درار کا کہنا تھا کہ اگر انقرہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کا خواہاں ہے تو اسے شام کے اندر مداخلت سے باز رہنا ہوگا۔ اگر ہمارے علاقے میں فوج داخل کرتا ہے تو اسے ترکی کی جارحیت اور قبضہ تصور کیاجائے گا۔ اس طرح کسی دوسرے عسکری گروپ اور انتہا پسند تنظیم کو بھی شام میں محفوظ زون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…