ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی حکومت کا غیر ملکی تارکین وطن کیلئے بڑا فیصلہ نقل کفالہ کا نیا قانون جاری ، شرائط و ضوابط کیا ہونگی؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 12  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی وزارت محنت کی جانب سے نقل کفالہ سے متعلق نئے ضوابط اور شرائط جاری ۔تفصیلات کے مطابق نقل کفالہ کیلئے کسی بھی غیر ملکی کارکن کا کسی بھی آجر کے یہاں مخصوص مدت تک کام کرنا ضروری نہیں۔اگر کسی غیر ملکی کارکن نے ایک ادارے سے دوسرے ادارے میں نقل کفالہ کی درخواست دی اور منقول الیہ ادارہ کے یہاں غیر ملکی کارکن کا ورک پرمٹ یا اقامہ ختم ہوگیا ہو اور تجدید نہ کرائی گئی ہو یا مملکت آمد پر 3ماہ گزر گئے ہوں اور اسکا ورک پرمٹ اوراقامہ نہ بنوایا گیا ہو۔

ایسے ادارے میں نقل کفالہ نہیں ہوسکتا۔وزارت محنت نے نقل کفالہ سے متعلق ایک ضابطہ یہ مقرر کیا ہے کہ ایسے ممالک کے کارکنان کا نقل کفالہ نہیں ہوسکتا جن کے نقل کفالہ پر پابندی لگی ہوئی ہے۔اسی طرح ایسے آجر کے یہاں بھی نقل کفالہ کی اجازت نہیں ہوگی جس کی بابت یہ ثابت ہوچکا ہو کہ وہ اپنے جملہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کا مرتکب ہوچکا ہے۔ اپنے نام سے غیر ملکی کو کاروبار کرانے والے ادارے یا ملازمین یا اپنے تمام یا بعض ملازمین کو کسی اور کے یہاں غیر قانونی طریقے سے کام کی اجازت دینے یا اپنا کاروبار کرنے کا موقع فراہم کرنے والے آجر کے یہاں بھی نقل کفالہ نہیں ہوسکتا۔نطاقات پروگرام میں مذکور ایسے غیر ملکی کارکن کا نقل کفالہ اس کے آجر کی اجازت کے بغیر ہوسکتا ہے جس کا ورک پرمٹ یا اقامہ ختم ہوگیا ہو۔وزارت نے یہ بات بھی صاف کردی ہے کہ نطاقات ضوابط کے بموجب موجودہ آجر کی منظوری کے بغیر ایسے نئے کارکن کا نقل کفالہ بھی کیا جاسکے گا جس کا ورک پرمٹ جاری نہ ہوا ہو۔وزارت نے یہ بھی بتایا ہے کہ وزیر محنت یا انکی منظوری سے کوئی اور عہدیدار مخصوص حالات میں آجر کی مرضی کے بغیر نقل کفالہ کی منظوری دے سکتا ہے۔ یہ منظوری ایسی صورت میں دی جاسکے گی جب آجر اور اجیر کے درمیان تنازع پر کسی عدالتی ادارے میں مقدمہ چل رہا ہو اور آجر جان بوجھ کر مقدمے کو طول دے رہا ہو۔ایسی صورت میں بھی نقل کفالہ ممکن ہے جبکہ مقدمے کی سماعت کے دوران عدالتی ادارے نے اس کی سفارش کردی ہو۔ علاوہ ازیں ایسی حالت میں بھی نقل کفالہ کی منظوری دی جاسکے گی جبکہ ادارے نے مسلسل 3ماہ تک کارکن کامحنتانہ ادا نہ کیا ہو یا ادائیگی میں تاخیر کی ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…