پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

کابل حکومت امریکی طفیلی اور بے اختیار ہے،طالبان نے دوٹوک موقف اختیارکرلیا،دھماکہ خیز اعلان

datetime 9  جنوری‬‮  2019 |

دوحہ(آئی این پی ) قطری دارالحکومت میں افغان طالبان اور امریکا کے درمیان نو جنوری سے شروع ہونے والے مذاکرات آخری لمحے پر منسوخ کر دیے گئے۔ مذاکرات کی منسوخی کا اعلان طالبان کی جانب سے کیا گیا۔افغان طالبان نے مذاکراتی ایجنڈے پر اختلاف رکھتے ہوئے بدھ نو جنوری کو شروع ہونے والی بات چیت منسوخ کر دی ہیں۔ فریقین کے درمیان یہ دو روزہ مذاکرات خلیج کی عرب ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہونے تھے۔

اس مذاکراتی عمل میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کو فوقیت دی جا رہی تھی۔مذاکرات کی منسوخی کی وجہ ایجنڈے کے بعض نکات پر اختلاف قرار دیا گیا ہے۔ اختلافی معاملات قیدیوں کا تبادلہ اور جنگ بندی خیال کیے گئے ہیں۔ ان مذاکرات میں کابل حکومت کو شامل نہیں کیا گیا تھا کیونکہ طالبان کا موقف ہے کہ کابل میں قائم حکومت حقیقت میں امریکا کی کٹھ پتلی اور بے اختیار ہے۔ طالبان براہ راست امریکا سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اسی کو اپنا دشمن قرار دیتے ہیں۔دوسری جانب مذاکرات کی منسوخی پر کابل میں متعین امریکی سفیر جان باس نے کہا ہے کہ افغان طالبان کا یہ فیصلہ نامناسب ہے اور وہ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ بات چیت کے سلسلے کو کم از کم اتنا تو جاری رکھیں جتنا وہ میڈیا سے کرتے ہیں۔ امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اور بیان میں واضح کیا گیا کہ افغان تنازعے کے لیے مکالمت کا سلسلہ انتہائی ضروری ہے۔افغان طالبان نے مذاکراتی ایجنڈے پر اختلافات کے باعث امریکا کے ساتھ مذاکرات منسوخ کیے ہیں۔طالبان کے ساتھ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت خصوصی مندوب زلمے زاد کرنے والے تھے۔ سابقہ مذاکرات کی طرح اس مرتبہ پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو نو جنوری کے منسوخ ہونے والے مکالماتی عمل میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔امریکی وزارت خارجہ کے ایک تازہ اعلامیے کے مطابق افغانستان کے لیے مقرر خصوصی امریکی مندوب مذاکرات کی منسوخی کے بعد چین، بھارت، افغانستان اور پاکستان کے دورے پر روانہ ہو جائیں گے۔ وہ آٹھ سے اکیس جنوری تک ان ممالک کے دورے پر رہیں گے۔ ان چاروں ممالک پہنچ کر وہ اعلی سطحی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں افغانستان میں قیام امن کی صورت حال اور تنازعے کے سیاسی و پرامن حل پر گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…