جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

اعظم سواتی نے صرف وزارت سے استعفیٰ دیا،کیا وہ رکن اسمبلی رہنے کے اہل ہیں؟ چیف جسٹس نے مثال قائم کردی،بڑا حکم جاری

datetime 8  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ میں آئی جی اسلام آباد تبادلہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سینیٹر اعظم سواتی نے صرف وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے تاہم وزارت پر اب بھی ان کا نام چل رہا ہے ٗکیا وہ رکن اسمبلی رہنے کے اہل ہیں؟ منگل کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے آئی جی اسلام آباد تبادلہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اعظم سواتی کے وکیل علی ظفر نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ ان کے موکل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اعظم سواتی نے صرف وزارت سے استعفیٰ دیا ہے ٗ ہم اس معاملے کو 62 ون ایف کے تحت دیکھ رہے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اعظم سواتی رکن اسمبلی رہنے کے اہل ہیں؟ابھی بھی وزارت پر اعظم سواتی کا نام چل رہا ہے۔چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیاکہ آئی جی صاحب آپ نے اب تک کیا کیا ہے؟آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی، نجیب اللہ، جان محمد، فیض محمود اور جہانزیب کے خلاف پرچہ درج کیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘جو سارا کرتا دھرتا ہے، اس کے خلاف کچھ نہیں کیا؟ اس لیے کہ وہ بڑا آدمی ہے؟’ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ صرف ایک فون نہ سننے پر آئی جی تبدیل کردیا، پھر بھینس بھی نہیں نکلی جس پر عدالتی معاون فیصل صدیقی نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے لکھا ہے کہ آئی جی کے تبادلے میں اعظم سواتی کا کردار نہیں لیکن تبادلہ اْسی دن کیا گیا جب آئی جی نے فون سننے سے انکار کیا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کو مخاطب کرکے کہا کہ اگر لوگوں کو انصاف نہیں دینا تو کس چیز کے آئی جی لگے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غریب لوگوں کو مارا پیٹا گیا، آپ سے کہا داد رسی کریں لیکن آپ بھی مل گئے۔

چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کو مخاطب کرکے کہاکہ عامر ذوالفقار، آپ کے بارے میں میرا تاثر بہت خراب ہوگیا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی آگیا کہ وزیر کے ساتھ پولیس نے خصوصی برتاؤ کیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم مثال قائم کرنا چاہتے ہیں کہ بڑے آدمی چھوٹوں کو روند نہیں سکتے، ہم اعظم سواتی کو 62 ون ایف کا نوٹس کر دیتے ہیں کیونکہ پولیس نے تو پرچہ درج کرنا نہیں۔اس موقع پر عدالتی معاون نے بتایا کہ جے آئی ٹی کے مطابق اعظم سواتی نے 2 اثاثوں کے بارے میں غلط بیانی کی۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی نے کچھ معاملات میں نیب کو مداخلت کی سفارش کی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کے علاوہ کوئی ایسا فورم ہے جہاں اس معاملے کو بھیجا جائے؟

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…