ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

میرٹ میرٹ کا راگ الاپنے والوں کا چہرہ بے نقاب, اسد قیصر اور مشتاق غنی نے کیسے اختیارات کا غلط استعمال کیا؟ خیبر پختونخوا سروسز ٹربیونل کے ہوشربا انکشافات

datetime 2  جنوری‬‮  2019 |

پشاور(اے این این ) خیبرپختونخوا کے سروسز ٹربیونل نے صوبائی اسمبلی کے موجودہ اسپیکر مشتاق غنی اور سابق اسپیکر اسد قیصر کو اسمبلی سیکریٹریٹ میں خالی اسامیوں پر بھرتی میں اقربا پروری کا ذمہ دار قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے سروسز ٹربیونل میں ایک جونیئر افسر کی سیکریٹری اسمبلی تقرری کے خلاف ٹریبیونل میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

ٹربیونل نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے سابق اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر اور موجودہ اسپیکر مشتاق غنی کو تقرری میں اقربا پروری دکھانے کا مرتکب قرار دیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ مذکورہ عہدیداران نے اپنی سیکریٹریٹ میں تقرری کے معاملے میں اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، تاہم اس کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہیے۔گزشتہ برس 10 دسمبر کو سینئر ایڈیشنل سیکریٹری کفایت اللہ خان آفریدی نے درخواست جمع کروائی تھی جس کی سماعت محمد حامد مغل، محمد امین خان کنڈی اور احمد حسن نے کی تھی۔ٹربیونل نے 11 اگست 2017 کو محکمانہ ترقیاتی کمیٹی اور 15 اگست 2017 کو جونیئر افسر نصر اللہ خان کو سیکریٹری بنانے سے متعلق نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا۔سروسز ٹربیونل نے فیصلہ دیا کہ اسد قیصر اور مشتاق غنی نے تقرریوں میں اقربا پروری کو فروغ دیا۔خیال رہے کہ اسد قیصر پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں کامیاب ہوکر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور پارٹی نے انہیں اسپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ دیا۔قبل ازیں 2013 سے 2018 تک خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران اسد قیصر اسپیکر صوبائی اسمبلی رہے تھے۔واضح رہے کہ مشتاق غنی اس وقت خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر ہیں جو گزشتہ دورِ حکومت میں پرویز خٹک کی کابینہ میں شامل رہے ہیں۔مشتاق احمد غنی کو مارچ 2014 میں وزیر تعلیم کا قلمدان سونپا گیا تھا، بعد میں انہیں وزیرِاطلاعات کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…