ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں خطرناک وباء پھیل گئی،مریضوں سے اسپتال بھر گئے،انتہائی تشویشناک صورتحال

datetime 3  دسمبر‬‮  2018 |

حیدرآباد(آئی این پی) بھارتی ریاست حیدرآباد میں ان دنوں موسمی اور وبائی امراض کے ساتھ ساتھ ڈینگو کے معاملات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔کئی افراد مچھروں کے ذریعہ پھیلنے والی اس بیماری میں مبتلاہوکر اور سرکاری و پرائیویٹ اسپتالوں سے رجوع ہورہے ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق فیور اسپتال کے ڈاکٹرز نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے اس سال ڈینگو کے زیادہ معاملات درج کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹرس نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ اس بیماری سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ فیور اسپتال میں عام دنوں میں یومیہ 600 تا 700 مریض علاج کیلئے رجوع ہوتے ہیں لیکن ان دنوں موسمی امراض کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوگیا۔ یومیہ 1200 تا 1500 مریض اسپتال سے رجوع ہورہے ہیں۔ اسی طرح گاندھی اور عثمانیہ اسپتالوں میں بھی آؤٹ پیشنٹ کی حیثیت سے علاج کیلئے رجوع ہونے والوں کی تعداد بھی 2 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ڈاکٹرز کے مطابق موسمی بخار عام طور پر تین تا چار دن میں کم ہوجاتا ہے لیکن اگر کسی کو تین تا چار دن سے زائد بخار کی شکایت ہوتو مریض کو چاہئے کہ وہ فوری طبی معائنے کروائے۔ یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ کھانے اور پینے کی اشیا میں صاف صفائی کا خیال رکھیں۔  بھارتی ریاست حیدرآباد میں ان دنوں موسمی اور وبائی امراض کے ساتھ ساتھ ڈینگو کے معاملات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔کئی افراد مچھروں کے ذریعہ پھیلنے والی اس بیماری میں مبتلاہوکر اور سرکاری و پرائیویٹ اسپتالوں سے رجوع ہورہے ہیں۔بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق فیور اسپتال کے ڈاکٹرز نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے اس سال ڈینگو کے زیادہ معاملات درج کئے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…