جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

’’موجودہ حکومت کے پاس نہ تو اہلیت ہے، نہ ہی منصوبہ بندی‘‘ چیف جسٹس عمران خان حکومت پر برہم

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے بنی گالہ میں تجاوزارت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ موجودہ حکومت کے پاس نہ تو اہلیت ہے، نہ ہی صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی۔ منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سی ڈی اے کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق 1960 کے نقشے کے مطابق بنی گالہ کے زون 4 میں سڑکیں ہیں، 1992 اور 2010 میں ترمیم کی گئی اور زون 4 کے کچھ علاقے میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو بھی اجازت دی گئی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی کافی سارا سرسبز علاقہ موجود ہے جس کو بچایا جاسکتا ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے اس علاقے میں سڑکیں اور سیوریج بنانی ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موجودہ حکومت کے پاس نہ تو اہلیت ہے نہ ہی صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی، ممکن ہے کہ آپ زیر زمین بجلی کی لائنیں بچھائیں اور ٹرینیں بھی چلانا چاہیں، اس کیلئے بھی آپ کو زمین چاہیے، چونکہ بہت ہی نیا پاکستان بن رہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ جن کیسز کا نوٹس لے رکھا ہے وہ ادھورے چھوڑ کر نہیں جائیں گے بلکہ ان کا فیصلہ کر کے جائیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بنی گالہ میں سہولیات کیلئے زمین چاہیے، منصوبہ بندی کے تحت ڈیویلپمنٹ کرنا ہے تو زمین خریدنی پڑیگی ٗ مالکان کو ازالہ ادا کرنا پڑیگا اور ریگولرائزیشن کے لیے پیسے دینا ہوں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر نیا شہر بنانا چاہتے ہیں تو سی ڈی اے زمینیں حاصل کرے، اس موقع پر نمائندہ سروے جنرل آف پاکستان نے

عدالت کو بتایا کہ 3.42 ملین سی ڈی اے اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) نے دینے ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سی ڈی اے نے ادائیگی کی منظوری دے دی ہے، کچھ پیسے پنجاب حکومت نے بھی دینے ہیں۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سروے جنرل آف پاکستان کو ایک مہینے میں ادائیگی کی جائے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ تحفظ ماحولیات کے حق میں سول عدالت کا دیا ہوا فیصلہ نہیں مل رہا جس پر سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 22 نومبر تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…