ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی میں قتل ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی آڈیو ریکارڈنگ منظر عام پر آگئی، مقتول نے آخری وقت قاتلوں سے کیاکہاتھا؟ افسوسناک انکشافات

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

انقرہ(این این آئی) استنبول کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی نے اپنے قتل کے وقت آخری جملہ ’میرا دم گھٹ رہا ہے‘ ادا کیا تھا۔قطر کے نشریاتی ادارے نے ترک اخبار صباح کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ پلاسٹک کے تھیلے سے منہ کو ڈھانپ کر جمال خاشقجی کا دم گھونٹ کر قتل کیا گیا۔

قتل کے وقت صحافی نے اکھڑتی سانس کے ساتھ آخری جملہ ادا کیا کہ میرا دم گھٹ رہا ہے۔صحافی کے قتل کے وقت کی آڈیو ریکارڈنگ میں صحافی اپنے قاتلوں کو کہتے ہیں کہ میرے منہ سے تھیلا ہٹاؤ مجھے بند جگہ سے خوف آتا ہے، جلدی ہٹاؤ میرا دم گھٹ رہا ہے لیکن قاتل اپنے ارادے کے پکے تھے، سات منٹ کی سفاکانہ کارروائی میں صحافی کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ترک اخبار کے چیف انویسٹی گیشن نے ٹی وی کو بتایا کہ سعودی عرب سے آنے والے 15 حکام ہی قتل کے ذمہ دار ہیں جن میں کلیدی کردار فرانزک لیب کے سربراہ صلح کا ہے جس نے قتل کو چھپانے کے لیے کمرے کے فرش اور دیواروں کو پلاسٹک سے ڈھک سے دیا تھا۔سعودی فورنزک لیب کے سربراہ صلح نے صحافی کے دم گھٹ کر مرجانے کے بعد مکمل طور پر پلاسٹک سے ڈھکے کمرے میں لاشوں کے ٹکڑے کیے تاکہ تفتیش کار قتل اور لاش کا کوئی سراغ لگانے میں ناکام رہیں۔  استنبول کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی نے اپنے قتل کے وقت آخری جملہ ’میرا دم گھٹ رہا ہے‘ ادا کیا تھا۔قطر کے نشریاتی ادارے نے ترک اخبار صباح کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ پلاسٹک کے تھیلے سے منہ کو ڈھانپ کر جمال خاشقجی کا دم گھونٹ کر قتل کیا گیا۔ قتل کے وقت صحافی نے اکھڑتی سانس کے ساتھ آخری جملہ ادا کیا کہ میرا دم گھٹ رہا ہے۔صحافی کے قتل کے وقت کی آڈیو ریکارڈنگ میں صحافی اپنے قاتلوں کو کہتے ہیں کہ میرے منہ سے تھیلا ہٹاؤ مجھے بند جگہ سے خوف آتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…