ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی فوج کا تنظیمی ڈھانچہ پرانا ہے اور اس میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے : جنرل راوت کا اعتراف

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

سرینگر(این این آئی) یہ امر دلچسپ ہے کہ نئی دہلی کی طرف سے رواں سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان مجوزہ ملاقات منسوخ کرنے کے ایک روز بعد پاکستان کے خلاف کارروائی کی دھمکی دینے والے بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے اس بات کا اعتراف کرلیاہے کہ بھارتی فوج کا تنظیمی ڈھانچہ پرانا ہے۔

اور اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنرل راوت نے نئی دہلی میں ایک انگریزی روزنامے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ ہم فورسز کو مستقبل میں کسی بھی قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا تنظیمی ڈھانچہ پرانا ہے اور اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انٹرویو میں انہوں نے پاکستان اور چین کے جنگی محاذوں سے نمٹنے کے لیے بھارتی فوج کے منصوبوں پر روشنی ڈالی ۔ فوج میں مجوزہ تبدیلی یا تشکیل نو کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر جنرل راوت نے کہا کہ ہم اصل صورتحال کے مطابق نئے تصور ات پر عمل کرنے کی کوشش کے تحت بہت جلد(Integrated Battle Groups )مربوط جنگی گروپ تشکیل دیں گے۔جنرل راوت نے آئی بی جی اور اس کے کام کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ جب آپ جنگ میں جاتے ہیں تو فورسزکے مختلف شعبوں کاایک مربوط گروپ بنایا جاتا ہے اورہم اب آئی بی جی امن کے دوران ہی بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ انفنٹری، آرمرڈ، آرٹلری، سگنلز اور انجینئرنگ سمیت مختلف بٹالیینزکو پہلے ہی ایک علاقہ دیا گیا ہے اور ہم انہیں امن کے دنوں میں ہی تیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا آئی بی جی روایتی بریگیڈ سے بڑا ہوگاتو جنرل راوت نے کہاکہ ہم دو قسم کے IBGs بنانا چاہتے ہیں ،پہاڑی علاقوں ( چینی سرحد)کے لیے چھوٹ قسم کے اور میدانی علاقوں(پاکستانی محاذ) کے لیے بڑے قسم کے آئی بی جیز۔ انہوں نے کہاکہ جنگ کا طریقہ کار تبدیل ہورہاہے اور ہمیں اسی کے مطابق تبدیل ہونا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…