ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

کیا ماں ایسی بھی ہو سکتی ہے؟رونے کی آواز سننے پر اپنے ایک ماہ کے بچے کو ٹب میں ڈبو کر قتل کردیا،باپ کی حالت کیا ہوگئی؟ پڑھ کر آپ بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پائینگے

datetime 27  اکتوبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)ایک امریکی خاتون نے اپنے شیر خوار بچے کو صرف اس لئے قتل کر دیا کیونکہ وہ اس کے رونے کی آواز سننا نہیں چاہتی تھی۔ایک غیر ملکی رپورٹ کے مطابق19 سالہ جینا نامی امریکی خاتون نے اپنے ایک ماہ کے بچے کو باتھ ٹب میں ڈبو کر قتل کر دیا ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خاتون نے بچے کو مارنے کے طریقے بھی انٹرنیٹ سے سرچ کر رکھے تھے۔

پولیس کے مطابق خاتون کے موبائل سے سرچ لاگ کے سو سے زائد شواہد ملے ہیں جس میں بچے کو مارنے کے مختلف طریقے ڈھونڈے گئے تھے جن میں’ فوری طور پر مرنے کے طریقے‘،’بچے کو ڈوبنے میں کتنا وقت لگتا ہے‘ ’پانچ قسم کے والدین جو قتل کرتے ہیں‘ ’والدین بچوں کو کیوں مارتے ہیں‘لاپتہ بچوں کے مقدمات‘ جیسے عنوانات شامل ہیں۔تحقیقاتی ٹیم کے مطابق خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ایک مہینے کے بچے کو باتھ ٹب میں ڈبو کر پر سکون ہے کیونکہ وہ اپنے بچے کی رونے آواز سننا نہیں چاہتی تھی۔پولیس کے مطابق بچے کو مارنے کے بعد خاتون نے بچے کی لاش ایک بیگ میں چھپا دی اور پولیس کو اس کے اغوا کی خبر دیدی۔بعد ازاں پولیس نے تحقیق کر کے بیگ ڈھونڈ نکالا جس کے بعد خاتون کوحراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی۔عدالت میں پیشی کے موقع پر خاتون نے سب کچھ سچ بیان کر دیا ، بچے کے باپ نے عدالت میں کہا کہ میرا بچہ بہت پر سکون اور پیارا تھا،میں نے بھی اس کے ساتھ وقت گزارا، وہ بہت زیادہ تو نہیں روتا تھا۔انہوں نے جذباتی ہوکر کہا کہ اب میں اپنے بچے کو کبھی گود میں نہیں لے پاؤں گا ٗنہ بات کر سکوں گا ، نہ کھیل سکوں گا، نہ اسے اسکول لے جا سکوں گا۔اس عورت نے میری زندگی چھین لی، اس کو میری زندگی اور میرے خاندان سے دور چلے جانا چاہیے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی بیوی کو زندہ چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ ہر دن یہ سوچ کر تڑپے کہ اس نے معصوم بچے کے ساتھ کیا کیا۔اس عورت نے مجھے جو درد دیا ہے ،وہ نا قابل بیان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…