جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

عوامی مقامات پر سونا غیر قانونی قرار

datetime 16  اکتوبر‬‮  2018 |

بڈاپسٹ(این این آئی)ہنگری میں عوامی مقامات پر سونا اب غیر قانونی ہو گیا ہے۔ یہ قانون، وزیر اعظم وکٹر اوبان کی طرف سے لایا گیا ہے، اقوام متحدہ نے اسے ’بدقسمتی‘ اور انسانی حقوق کے مخالف قرار دیا ہے۔ہنگری کی پارلیمنٹ نے یہ قانون جون میں پہلی بار منظور کیا تھا۔ اس کے تحت، سڑکوں پر سونا اب غیر قانونی ہو گیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ پولیس کو لوگوں کو ہٹانے

کی اجازت دینامعاشرے کے مفادمیں ہے۔اس سے پہلے، سال 2013 میں، سڑکوں پر سونے پر جرمانہ عائد کیا جاتا تھا اور یہ نیا قانون اسی قانون کی ایک سخت شکل ہے۔سماجی معاملات کے سیکرٹری اتیلا فولوپ نے کہا کہ اس قانون کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بے گھر لوگ رات کو سڑکوں پر نہ سوئیں اور ملک کے شہری کو عوامی جگہوں کا غیر کسی رکاوٹ استعمال کر سکیں۔اقوام متحدہ کی ہاؤسنگ ماہر لیلانی فرح نے اس سال جون میں کہا تھا کہ قانون بے رحم تھا، ’یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کا خلاف ورزی ہے۔ہنگری میں، حکومت کی جانب سے بے گھر افراد کے لیے 11 مقامات بنائے گئے ہیں۔لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ 20 ہزار سے افراد ملک میں بے گھر ہیں۔گذشتہ ماہ یورپی پارلیمان نے ہنگری کے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ یورپی پارلیمان کے ارکان نے اس بحث کے دوران کہا کہ ہنگری اپنے بے گھر افراد کے ساتھ نمٹنے کے طریقے ’یورپی انسانی اقدار کے کھلے اور سنگین خلاف ورزی ہے۔دوسری طرف، ہنگری کی حکومت کا کہنا ہے کہ بے گھر لوگوں کی مدد کے لیے فنڈنگ بڑھا رہی ہے۔حکومت نے ایک بیان جاری کیا کہ بے گھر لوگوں کو معزز طریقے سے مدد دی جا رہی ہے۔اس بیان میں یہ کہا گیا تھا کہ بے گھر لوگوں کو رات اور دن کی رہائشی سہولیات دی جا رہی ہیں جہاں وہ سونے، کھانے کے علاوہ نہا دھو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…