بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

صرف 1 مہینے میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں کتنی کمی کی گئی؟تحریک انصاف کے دور میں روزانہ کتنے ارب روپے کا قرضہ قوم پر چڑھا یاجارہاہے؟سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کے تشویشناک انکشافات

datetime 26  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی ) سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاکہ گذشتہ الیکشن میں دوسری پارٹی کو کامیابی دلا دی گئی،تبدیلی کے نام پر گیس کے نرخ بڑھا دئیے گئے،اب ضمنی انتخابات کے بعد بجلی کے نرخ بھی بڑھا کر تبدیلی لائے جائے گی۔ ان خیالات کااظہار سابق وزیر خزانہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مفتاح اسماعیل نے کہاکہ ایک تبدیلی نواز شریف لایا کہ 11ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی گئی،ہم ٹیکس کی بات کرتے تھے تو تحریک انصاف والے کہتے تھے کہ خوردونوش کی اشیا پر ٹیکس نہ لگائیں اب انہوں نے

اشیائے خورد و نوش پر 93 ارب کے ٹیکس لگا دئیے ہیںیہ تبدیلی کی شروعات ہیں، نجانے 5 سالوں میں مزید کیا کیا تبدیلیاں لائیں گے،1 مہینے میں ڈالر کے مقابلے میں 10 روپے کمی کر دی گئی ہے ان کے دور میں روزانہ ایک ارب روپے کا قرضہ قوم پر چڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے موٹر ویز، نیلم جہلم، 11 ہزار میگاواٹ کے بجلی کے کارخانے لگائے اور بھاشا ڈیم کے لئے 19 ہزار ایکڑ زمین خریدی۔نواز شریف نے زندگی بھر چیزیں بنائیں جبکہ عمران خان نے زندگی بھر چندہ مانگا، اب بھی ڈیم کے لئے قرضہ مانگ رہے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…