جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی چل بسے‎

datetime 16  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی  زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد چل بسے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے دو مرتبہ وزیر اعظم بننے والے93 سالہ اٹل بہاری واجپائی  آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں چل بسے ہیں ۔واضح رہے  رواں ماہ جون میں انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا تھا۔

جہاں ڈاکٹروں نے ان کی سانس کی نالی میں انفیکشن بتایا ، اس کے ساتھ ہی ان کے گردوں سے متعلق بھی بیماری کی تشخیص کی گئی تھی۔گزشتہ ہفتے، بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور یونین کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ بھی ان کی صحت کا حال پوچھنے ہسپتال پہنچے تھے۔واضح رہے اٹل بہاری واجپائی نے 1940 میں سیاست میں قدم رکھا تھا، 1942ء کی ’’بھارت چھوڑو‘‘ تحریک میں پرجوش حصہ لیا،تحریک کی شدت کو دیکھ کر تحریک کے شرکا کو پکڑا جانے لگا تو یہ بھی گرفتار ہو گئے اور انہیں 24 دنوں کی قید بھگتنی پڑی۔اٹل بہاری واجپائی دو مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہے۔ پہلی مرتبہ 16 مئی 1996ء سے یکم جون 1996ء یعنی 15 دن کے وزیر اعظم رہے ٗدوسری مرتبہ 19 مارچ 1998ء سے 22 مئی 2004ء تک وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔واجپائی ملک کے صف اول کے سیاسی رہنما کے ساتھ ہندی کے عمدہ شاعر بھی ہیں ٗ سیاسی مصروفیات میں بھی انہوں نے شاعری کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ واجپائی جنہیں اعتدال پسند قائد کہا جاتا ہے انہوں نے اپنی شاعری میں بھی اپنے ان جذبات کی ترجمانی کی ہے ٗاپنے طویل سیاسی سفر میں واجپائی نے وقت کے ہر سلگتے مسئلے پر نظمیں کہی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…