بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

زرداری نے عمران خان کو وزیراعظم بنانے کا پورا بندوبست کر دیا،کپتان کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور، ن لیگ میں بھی دراڑ،اسمبلی میں وزارت عظمیٰ کے انتخاب کے موقع پر کیا ہونیوالا ہے؟دھماکہ خیز خبر نے سیاسی ہلچل پیدا کر دی

datetime 16  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) شہباز شریف کی دھیمی پالیسی سے اختلاف، نواز شریف کے حامی اراکین اسمبلی الگ دھڑا بنانے کیلئے سرگرم، تیاریاں مکمل کر لی گئیں، ذرائع کا دعویٰ۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن میں دو گروپ بننے کے حوالے سے خبریں میڈیا کی زینت بن چکی ہیں تاہم اب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ن لیگ میں شہباز شریف کی دھیمی اور اداروں کے خلاف بیانیہ

سے ہٹ کر پالیسی کے خلاف ایک گروپ سامنے آچکا ہے جس کا موقف ہے کہ نوازشریف کے بیانیہ کو آگے بڑھاتے ہوئے نہ صرف اسمبلی بلکہ ملک بھر میں احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا جبکہ شہبازشریف اور ان کے ہمنوا گروپ کا کہنا ہے کہ نوازشریف کا بیانیہ اداروں کیخلاف ہے جس کواپنایا گیا تو پارٹی کا وجود بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔شہباز اور نواز گروپ سامنے آنے کی صورت میں ممکنہ طور پر اسمبلی کے اندر ن لیگ کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے جس میں قانون سازی اور اہم مواقع پر تقسیم اور مؤقف میں فرق کی وجہ سے نہ صرف اپوزیشن لیڈر کا عہدہ بھی ہاتھ سے نکل سکتا ہے بلکہ اہمیت کم ہونے سے سیاسی نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق نوازشریف نے شہبازشریف کو ہدایت کی تھی کہ وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے فرائض پارٹی کے سینئر رہنما خواجہ آصف یا دیگر کو دیدیئے جائیں اور آپ پارٹی امور پر نظر رکھیں تاہم ذرائع کے مطابق شہبازشریف وزارت عظمیٰ سمیت اپوزیشن لیڈرکا عہدہ بھی اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں تاکہ پارٹی پر ان کی گرفت مضبوط رہے، شہباز شریف اور ان کے گروپ کی پالیسی کی وجہ سے پیپلزپارٹی جو پہلے ہی شہباز شریف کو بطور وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے ووٹ نہ دینے کا اعلان کر چکی ہے متحدہ اپوزیشن کے اتحاد کو بھی نقصان پہنچنے کا احتمال پیدا ہو گیا ۔

آصف زرداری واضح طور پر پیغام دے چکے ہیں اگر متحدہ اپوزیشن کے وجود کو بحال رکھنا ہے تو شہبازشریف کو سائیڈ پر ہونا ہو گا۔ جس پر شہبازشریف نے فیصلہ کرلیا ہے کہ نقصان تو ہونا ہی ہے تاہم اس کو کم کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی باگ ڈور نوازشریف کے حامی گروپ کو نہیں دی جائے گی جس پر ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو نواز گروپ کے حامی لوگ علیحدہ فارورڈ بلاک بنا کر اسمبلی میں اپنی شناخت نوازشریف کے بیانیہ کیساتھ قائم رکھتے ہوئے نشستوں پر براجمان ہونگے اور اس حوالے سے حکمت عملی طے کر لی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…