بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

کپتان کی نئی حکومت کیلئے مشکلات اور پاک فوج کیخلاف سخت امریکی روئیے کے پیچھے کن پاکستانیوں کا ہاتھ نکلا؟امریکہ کو پاکستان اور ایران کو دانت دکھانے مہنگے پڑ گئےکیونکہ اب۔۔قومی اخبار کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

datetime 13  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ کا پاکستان، افغانستان، ایران سے متعلق نئی پالیسی بنانے پر غور، نئی پالیسی بنانے کا فیصلہ اس لئے کیا جا رہا ہے کیونکہ خطے میں وقت ساتھ ساتھ محرکات تبدیل ہوتے جا رہے ہیں، پاکستان اور ایران کے ساتھ دشمن جیسا رویہ افغانستان میں جاری امن کوششوں کو سبوتاژ کرسکتا ہے، امریکی ماہرین، تینوں ممالک کیلئے مستقل اور ٹھوس پالیسی نہ ہونا امریکی مفادات

کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، پالیسی ساز ادارے، آئی ایم ایف کے پاکستان کو امدادی پیکیج دینے سے انکار کے پیچھے حسین حقانی، علی جہانگیر صدیقی کا کردار ہے، ذرائع، قومی اخبار کی رپورٹ۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ نے پاکستان، افغانستان، ایران سے متعلق نئی پالیسی بنانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی پالیسی ساز اداروں کا کہنا ہے کہ ان تینوں ممالک کیلئے نئی پالیسی بنانے کا فیصلہ اسلئے کیا جا رہا ہے کیونکہ اس خطے میں وقت کے ساتھ ساتھ محرکات تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ناکامی تصور کر لیں یا کچھ اور لیکن ان تینوں ممالک کیلئے کوئی مستقل اور ٹھوس پالیسی نہ ہونا امریکی مفادات کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ امریکی تجزیاتی رپورٹس میں بھی کہا گیا ہے کہ افغان دارالحکومت کابل سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دو جنوب مغرب میں واقع غزنی شہر میں طالبان کے ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے پیچھے پاکستان اور ایران کا نام لیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی کے امریکی اعلیٰ حکام سے رابطوں میں یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنت طالبان کے ان گروپوں کی بھی مدد کر رہی ہے جن کو اندرون خانہ ایران اور روس کی حمایت حاصل ہے۔ جب سے علی جہانگیر صدیقی کی واشنگٹن میں تعیناتی کی گئی ہے اس کے بعد سے

امریکہ نے پاکستان کیخلاف سخت اقدامات کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ واشنگٹن اور نیویارک کے معتبر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حسین حقانی اور علی جہانگیر صدیقی کی مشترکہ خفیہ کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ امریکی ایوان بالا کے پندرہ اراکین نے آئی ایم ایف کو پاکستان کو کسی قسم کا امدادی پیکیج نہ دینے کی سفارش کی ہے۔ جانز ہاپکن تھنک ٹینک سے منسلک ڈینیل مارکی کا کہنا ہے کہ

ایران کے ساتھ امریکی انتظامیہ کا رویہ افغانستان میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ مونز کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ نے ان تینوں ممالک کیلئےمزید سخت پالیسیاں بنائیں تو پھر آپ بھول جائیں کہ کوئی مثبت ردعمل سامنے آئے گا۔ پینٹا گون سمجھتا ہے لیکن وائٹ ہائوس کو ابھی تک سمجھ نہیں آرہی کہ پاکستان اور ایران کے ساتھ دشمن ممالک والا رویہ افغانستان میں جاری امن کوششوں کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ یونائیٹڈ سٹیٹ آف پیس سے منسلک معید یوسف کا کہنا ہے کہ مزید پابندیاں لگانے سے افغانستان میں منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…