منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاک چین اقتصادی راہداری کے قرض کی ادائیگی کی تیاری

datetime 12  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نئی حکومت سے قبل بیوروکریٹس بیل آؤٹ بیکج بالخصوص پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پی) کے قرض کی ادائیگی کی تفصیلات کے حوالے سے کام کرنے میں مصروف ہیں۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بیورو کریٹس کی جانب سے تیار کیے جانے والے خاکے میں 2018 سے 2023 تک کے زرمبادلہ کے حوالے سے ممکنہ طور پر اٹھائے جانے والے اقدامات سے متعلق معلومات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ سی پیک منصوبے کے لیے چینی قرض کی ادائیگی کا مسئلہ اس وقت منظر عام پر آیا جب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کو خبردار کیا تھا کہ پاکستان عالمی ادارے کے بیل آؤٹ پیکج کی مدد سے بھاری چینی قرضوں کو ادا کرے گا۔ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 47 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا تھا جس میں سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے اختتام تک 22 ارب ڈالر کے منصوبے کے معاہدوں کی تکمیل ہوچکی ہے۔ سی پیک منصوبہ: 22 ارب روپے کے خصوصی فنڈز پر سوالات اٹھ گئے توانائی سیکٹر میں 12 ارب 25 کروڑ ڈالر کے منصوبے کے معاہدے مکمل ہوچکے ہیں جبکہ 11 ارب 34 کروڑ ڈالر کے منصوبوں کے معاہدوں کی تکمیل اب تک نہیں ہوئی۔ توانائی شعبے میں ہی 6 منصوبے فعال ہو چکے ہیں اور ان سے بجلی کی پیدوار بھی شروع ہوگئی ہے جس کے باعث پاکستان پر ان منصوبوں کی ادائیگی واجب الادا ہے، جو رواں مالی سال ادا کی جائے گی۔ اب تک پن بجلی کے 3، کوئلے کے 2 اور شمسی توانائی کے ایک منصوبے سے 3 ہزار 8 سو 39 میگا واٹ بجلی کی پیدوار جاری ہے۔ تاہم ان منصوبوں سمیت دیگر منصوبوں کی ادائیگی 25 سے 30 سال کے عرصے پر محیط ہے، جس کی اقساط ایک سال میں 2 مرتبہ ادا کی جائیں گی، تاہم تخمینہ لگایا گیا ہے کہ سی پیک کے منصوبے کی ششماہی قسط 7 کروڑ 15 لاکھ ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج: وزیرخارجہ نے امریکی بیان مسترد کردیا وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ میں موجود ذرائع نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ رقوم کی ادائیگی چینی کرنسی میں بھی کی جاسکتی ہے، تاہم منصوبوں کی ادائیگی تب شروع ہوگی جب منصوبے مکمل طور پر فعال ہوجائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ سڑکوں، ریلوے، ماس ٹرانزٹ، پی ایس ڈی پی یا ایس پی ای سی اور گوادر کا کوئی بھی منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے۔ ادھر پہلے سے لے وصول کیے گئے قرض کی ادائیگی کے لیے متبادل منصوبے کے طور پر نئی حکومت کو متعدد تجاویز پیش کے جانے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…