بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ارب پتی امریکی نے 3.4 ارب ڈالر خیراتی کاموں کے لئے عطیہ کر دیئے

datetime 18  جولائی  2018 |

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)ارب پتی امریکی شہری وارین بافٹ نے اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ خیراتی اور فلاحی کاموں کے لیے عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق بافٹ کی کمپنی کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ وارن بافٹ نے اپنی دولت میں سے تین ارب 40 کروڑ ڈالر فلاحی کاموں کے لیے دینے کا اعلان کیا ہے۔امریکی دولت مند کی طرف سے عطیہ کی گئی۔

رقم پانچ فلاحی اداروں کے ذریعے صرف کی جائے گی۔ امریکی تاریخ میں کسی کاروباری شخص کا اتنی بڑی رقم عطیہ کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔اْنہوں نے گذشتہ برس بھی امریکی ارب پتی بل گیٹس کی فلاحی تنظیم بل ومیلینڈا گیٹس کو ایک بڑی رقم عطیہ کی تھی۔ ان کے خاندان کی چار دوسری فلاحی تنظمیں بھی انسانی بہبود کے منصوبوں پرکاموں پر پیسے صرف کرتی ہیں۔ ان کے خاندان کی ایک کمپنی تعلیم کے شعبے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جو ان کی اہلیہ سوزان کے نام سے کام کر رہی ہے۔ شیرووڈ فاؤنڈیشن ان کی بیٹی، ھوارڈ جے بافٹ ان کے بڑے بیٹے، نوفو چھوٹے بیٹے بافٹ پیٹر اور اہلیہ جینیفر کے نام سے کام کام کرتی ہے۔ان فلاحی تنظیموں کو بافٹ 31 ارب ڈالر کی رقم دے چکے ہیں۔ سنہ 2006ء میں انہوں نے اپنی دولت بہ تدریج فلاحی کاموں پر صرف کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ ان کی وجہ سے کئی دوسرے دولت مندوں کو بھی فلاحی کاموں کے لیے خیرات کرنے کا حوصلہ ملا۔بافٹ نے بل گیٹس کی بل وملینڈا گیٹس کی فاؤنڈیشن کے ساتھ 2010ء میں ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت دنیا کے ارب پتی لوگوں کو اپنی دولت اعلانیہ فلاحی کاموں کے لیے صرف کرنے کی ترغیب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ بزنس جریدے فوربز کے مطابق بافٹ کی دولت 82 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ بل گیٹس اور امازون کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بیزوس کے بعد دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…