بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی شہزادے کا روپ دھار کر کروڑوں روپے لوٹنے والا گرفتار

datetime 14  جولائی  2018 |

میامی(انٹرنیشنل ڈیسک) ایک امریکی دھوکے باز نے سعودی شہزادے کا روپ دھارکر دنیا بھر کے سادہ لوح تاجروں سے کروڑوں روپے سرمایہ کاری کے نام پر بٹورے اور دوسال بعد دھرلیا گیا، اس نے ایک تقریب میں مزے سے خنزیر کا گوشت کھایا اور اسی شک کی بنا پر پکڑا گیا۔اس نوسرباز کا نام اینتھونی جائنیک ہے جو پیدا تو کولمبیا میں ہوا لیکن بعد میں مشی گن کے ایک خاندان نے اسے گود لیا تھا۔

2015ء میں اس نے فراڈ کے تحت ایک جعلی سرمایہ کار کمپنی بنائی جس کا نام مرڈن ولیمز انٹرنیشنل رکھا گیا جو پوری دنیا میں سرمایہ کاری کرتی تھی۔ اگلے دو سال تک اس نے خود کو سعودی شہزادہ قرار دیا اور دنیا بھر کے 26 سرمایہ کاروں سے 80 لاکھ ڈالر یا پاکستانی 85 کروڑ روپے اینٹھے۔ اس نے جعلی ڈپلومیٹک لائسنس والی پلیٹ اور اپنے گھر پر سلطان کے نام کی تختیاں لگوارکھی تھیں۔ اس طرح لوگ اسے اصلی شہزادہ سمجھنے لگے۔اس کے بعد اینتھونی نے قیمتی گاڑیاں خریدیں اور اپنی کلائی پر مہنگی گھڑیاں پہننے کے بعد ایک جزیرے پر شاندار گھرلیا۔ وہ اپنی تصاویرسوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا لیکن اپنا چہرہ کم کم دکھاتا تھا تاہم کچھ تصاویر میں وہ واقعی عرب باشندہ نظر آرہا تھا۔ اس نے خود کو سعودیہ عرب کے شاہی خاندان کا ایک فرد بتایا تھا۔ وہ پرائیویٹ جیٹ میں بھی پرواز کرتا اور اس کی تصاویر پوسٹ کرتا رہتا تھا۔یہ معاملہ چلتا رہا لیکن میامی کے ایک رئیل اسٹیٹ تاجر جیفری سوفر نے اسے کھانے پر بلایا جہاں اینتھونی نے خنزیر کا گوشت کھایا جس پر گوشت کے جانور کے متعلق واضح تحریر موجود تھی۔ جیفری جانتا تھا کہ مسلمان سؤر کا گوشت نہیں کھاتا۔ اس کے بعد اس نے ذاتی سراغرسانوں کو اینتھونی کی جاسوسی پر لگایا اور یوں اس کے جھوٹ کا پول کھل گیا۔نومبر 2017ء میں جیفری کے کہنے پر اینتھونی گرفتار ہوا اور تفتیش پر اس کے سارے جعلی کاغذات برآمد کرلیے گئے۔ اس پر چوری، فراڈ، دھوکے اور جعل سازی کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں اب یہ شخص فلوریڈا میں قید ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…