اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان میں اب ڈیمز بننے سے کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ ۔۔! چیف جسٹس نے ایسا اعلان کر دیا کہ پاکستانیوں کو بڑی خوشخبری سنادی

datetime 6  جولائی  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ڈیمز کے لیے جمع فنڈز کسی کو کھانے نہیں دیں گے،ڈیمز کی تعمیر کے لیے قوم کے بچے پیسے جمع کرکے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں،ہر گھنٹے ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہونے سے پتا چلتا رہے گا کہ کتنے پیسے جمع ہوئے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان نے ایک کیس کے دوران ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈز سے متعلق ریمارکس دیئے کہ ہم نے ڈیمز کے لیے فنڈز کی اپیل کر رکھی ہے،

ڈیمز کی تعمیر کے لیے قوم کے بچے پیسے جمع کرکے دے رہے ہیں، ہم ڈیمز فنڈز میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور سپریم کورٹ کے ججز بھی فنڈز دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیمز کے لیے جمع فنڈز کو کسی کو کھانے نہیں دیں گے، اس پر پہرا دیا جائے، یہ نہیں ہونے دیں گے کہ کمیشن کیلوگ ان فنڈز سے گاڑی اور گھر خرید لیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ ڈیمز سے متعلق ہر گھنٹے بعد اپ ڈیٹ کی جائے گی، ہر گھنٹے ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہونے سے پتا چلتا رہے گا کہ کتنے پیسے جمع ہوئے، اسٹیٹ بینک کو بھی اپنی ویب سائٹ پر یہ معاملہ اٹھانے کا کہا ہے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے ڈیمز کی تعمیر کے لیے 10 لاکھ روپے عطیہ کیے ہیں جب کہ سپریم کورٹ نے ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈز کی غرض سے جو اکا ئونٹ بنایا ہے اس کا ٹاٹئل اور نمبر یہ ہے۔(اکانٹ ٹائٹل))DIAMER BASHA AND MOHMAND DAM FUND (اکانٹ نمبر )account No.03-593-299999-001-4۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…