اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

قرضے کیسے معاف کروائے؟ ڈیمز بنانے کیلئے پیسے چاہئیں چیف جسٹس ثاقب نثار نے 222 کمپنیوں سے 54 ارب روپے واپس لینے کا اعلان کر دیا

datetime 4  جولائی  2018 |

قرضے کیسے معاف کروائے؟ ڈیمز بنانے کیلئے پیسے چاہئیں چیف جسٹس ثاقب نثار نے 222 کمپنیوں سے 54 ارب روپے واپس لینے کا اعلان کر دیا اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے 222 کمپنیوں کو قرض معافی کیس میں آپشنز پر غور کے لیے 10 روز کی مہلت دے دی،اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا

کہ بتادیں 75 فیصد رقم واپس کرنی ہےیا بینکنگ کورٹ جانا ہے،انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ 10 دن بعد عدالت قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی، چیف جسٹس نے کہا کہ مہلت کے بعدکمپنیاں کوئی آپشن استعمال نہیں کر سکتیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے 54 ارب روپے قرض معافی کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس پاکستان نے 222 کمپنیوں کو قرض واپس کرنے کے لیے 10 روز کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ ڈیمزبنانے کے لیے پیسے چاہئیں، 10دن سے زیادہ وقت نہیں دے سکتے، معاف کرائے گئے قرض کا 75 فیصد ادا کریں، چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ اس سے زیادہ معقول رعایت کیا ہو سکتی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیمزبنانے کیلئے پیسے چاہئیں،10دن سے زیادہ وقت نہیں دے سکتے، معاف کرائے گئے قرض کا 75 فیصد اداکریں، رقم کا 100 فیصدوصولی کابھی حکم دے سکتے تھے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ انصاف کا ترازو پکڑکر ہاتھ میں جھول نہیں ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ عدالتی آپشنز پر تمام لوگ ایک بارغور کر لیں گے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 17 جولائی تک ملتوی کردی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…