منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ نے گھٹنے ٹیک دیئے ،پاکستان پر دباؤ ڈال کر امریکی مطالبات منوانے کی پالیسی ناکام ہونے کا اعتراف،پالیسی تبدیل،بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 22  جون‬‮  2018 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکا کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان کو یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ اسے ابھی بھی دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کے لیے مزید کام کرنا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشین افیئرز ایلس جی ویلز نے یہ بیان گانگریس کو گزشتہ ایک سال کے عرصے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جنوبی ایشیا کے حوالے سے حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے دیا۔

اپنے بیان میں کہا کہ 2001 میں افغانستان میں طالبان حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستان میں پناہ لینے والے طالبان کے ٹھکانوں کا مکمل صفایا کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے بھرپور تعاون کی توقع ہے، اور اس ضمن میں پاکستان کو مزید کام کرنا ہے۔ ایلس ویلز نے تسلیم کیا کہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر امریکی مطالبات منوانے کی پالیسی کچھ خاص کامیاب نہیں رہی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی ایشیا کے حوالے سے حکمت عملی کے اعلان کے 10 ماہ بعد بھی محض چند مثبت چیزوں کے علاوہ، پاکستان کی جانب سے خاطر خواہ ٹھوس اور فیصلہ کن اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے جن کی ہمیں توقع تھی۔امریکی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں پاکستان کو بہت اہم کردار ادا کرنا ہے اوراس کے جائز مفادات بھی وابستہ ہیں جن کا وہ امن عمل کے ذریعے کا تحفظ چاہتا ہے، امریکا نہ صرف پاکستان کے مفادات سے آگاہ بلکہ اپنے خدشات دور کرنے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ جو مذاکرات کیے اس میں افغانستان کے ساتھ امن کے قیام کی کوششوں کی بھی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔امریکی عہدیدار نے اپنے بیان میں تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ طالبان بار بار ابھرنے کی صلاحیت رکھنے والے دشمن ہیں، اور افغان فوج کو اب بھی افغانستان کے مضافاتی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سخت مشکلات درپیش ہیں۔

پاکستان کے حوالے سے انہوں نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرے اور جو عناصر امن مذاکرات کا حصہ بننے کو تیار نہ ہوں انہیں گرفتار یا نکال باہر کرے۔ایلس ویلز نے مزید بتایا کہ ایران سے لے کر روس ، بھارت، چین اور وسطی ایشیا کے ممالک سمیت افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک بارہا افغانستان میں امن عمل کے لیے اپنے تعاون کا یقین دلاچکے ہیں، جنہیں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی افغان پالیسی کی کامیابی قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ماضی میں اس قسم کے اقدامات سے افغانستان میں مکمل امن کے قیام میں کامیابی نہیں ملی جو تین دہائیوں سے زائد عرصے سے حالت جنگ میں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…