بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

طورخم سرحد پر تجارتی سرگرمیوں میں توازن آنا شروع

datetime 20  جون‬‮  2018 |

لنڈی کوتل (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومتِ پاکستان کی جانب سے 2016 سے افغانستان کے ساتھ درآمدات اور برآمدات پر عائد پابندی میں نرمی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان طورخم سرحد سے دو طرفہ تجارت اپنا توازن حاصل کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اس وقت کشیدگی کا آغاز ہوا تھا جب پاکستان نے طورخم سرحد پر اپنی حدود میں گیٹ کی تعمیر شروع کی تھی۔

جس کے خلاف افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مزاحمت دیکھنے میں آئی تھی۔ مذکورہ واقع کے بعد سے 2015 میں 2 ارب 30 کروڑ ڈالر تک کی تجارت 2017 میں کم ہوکر 80 کروڑ ڈالر تک محدود ہوگئی تھی۔ علاوہ ازیں پاکستان نے افغان باشندوں کی نقل و حمل پر بھی پابندی عائد کردی تھی جو مختلف وجوہات کی وجہ سے پاکستان کا سفر کرتے تھے اور صرف انہی افغانی باشندوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جاتی تھی جن کے پاسپورٹ پر باقاعدہ پاکستانی ویزا موجود ہوتا تھا۔ پاک-افغان فلیگ میٹنگ: طورخم سرحد دوبارہ کھول دی گئی اسی طرح طورخم سرحد کے نزدیک رہنے والے پاکستانیوں کو افغانستان جانے کے لیے خیبر انتظامیہ کی جانب سے ایک ’روٹ پاس‘ دیا جاتا تھا جس کی مدد سے وہ اپنے کاروبار کے لیے افغانستان جاتے تھے، تاہم اب ان کارڈز کا بھی اجرا ختم کردیا گیا ہے جبکہ ان افراد کو بھی سرحد پر اپنا قومی پاسپورٹ دکھانا لازمی ہے۔ ایک مقامی تاجر صابر خان کا کہنا ہے نئی پالیسی نے مقامی تاجروں، اور سامان پہنچانے والوں کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سرحد کے نزدیک تقریباً 10 ہزار سے زائد افراد ایسے ہیں جو دونوں مملک کے درمیان تجارت کی وجہ سے اپنا گزربسر کرتے تھے تاہم اب نئی پالیسی کی وجہ سے یہ افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مقامی تاجر نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ انہوں نے ابھی تک امیدیں نہیں چھوڑیں اور اس معاملے میں تمام متعلقہ پلیٹ فارمز اور حکام کے سامنے آواز اٹھائی جائے گی کہ افغانستان کے ساتھ تجارت میں کمی کے پیشِ نظر نئی سرحدی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے۔ تاہم مقامی تاجروں، ٹرانسپورٹرز، مقامی افراد، سیاسی اور سماجی تنظیموں کی کوششوں کے بعد بلآخر کور کمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے اعلان کیا تھا۔

افغانستان کے ساتھ براہِ راست دو طرفہ تجارت میں نمایاں نرمی کی جائے گی۔ پاک-افغان سرحد طورخم کے مقام پر آج بھی کھلی ہے بعدِ ازاں کسٹم حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ طورخم سرحد پر تجارتی مقاصد کے لیے تاجروں کو 24 گھنٹے سروس فراہم کریں، اور کلیئرنگ کے کمپوٹرآئزڈ نظام کو مزید بہتر بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکام کو یہ بھی ہدایت جاری کی گئیں کہ رات گئے افغانستان نے سامان کی کھیپ آنے کی صورت می سرحد کو دیر تک

کھولا جائے، اس کے علاوہ افغانستان سے خالی آنے والی گاڑیوں کی کلیئرنس میں بھی نرمی کی جائے تاکہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی کمی پر بھی قابو پایا جاسکے۔ کور کمانڈر پشاور کے اس اعلان کو مقامی تاجروں کی جانب سے ایک خوش آئند اعلان قرار دیا گیا۔ طورخم کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر حیات اللہ شنواری کا کہنا تھا کہ مذکورہ اعلان کو ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس اعلان کا نفاذ عمل میں نہیں آیا ہے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…