ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

امریکی صدر ٹرمپ کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ رہے اپنی ہی اہلیہ میلانیا نے سب کے سامنے ایسی بات کہہ دی کہ امریکی صدر کو منہ چھپانا پڑ گیا

datetime 18  جون‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن (این این آئی)امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے میکسیکو سے امریکہ میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کو والدین سے علیحدہ کرنے کی پالیسی کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انھیں بچوں کو ان کے والدین سے جدا کرنے سے نفرت ہے۔میلانیا ٹرمپ کی ترجمان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسا ملک ہونا چاہیے جو تمام قوانین کی پاسداری کرے

لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں ایسا ملک بھی ہونا چاہیے جہاں دل کی حکومت ہو۔ان کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب صدر ٹرمپ کی صفر برداشت کی پالیسی تنازع کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔اور حالیہ چھ ہفتوں کے دوران تقریباً دو ہزار خاندانوں کو ان کے بچوں سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔جو بالغ سرحد عبور کرتے ہیں انھیں حراست میں لے کر ان کے خلاف غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے جرم میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے حالانکہ ان میں بہت سے پناہ حاصل کرنے کی غرض سے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہو رہے ہیں۔اس کے نتیجے میں سینکڑوں بچے حراستی مراکز میں اپنے والدین سے علیحدہ کر کے رکھے جا رہے ہیں۔ اس نئی پالیسی کو انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ ایسا آج تک کبھی نہیں کیا گیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ انھیں بچوں کو اپنے والدین سے جدا کیے جانے سے نفرت ہے اور وہ’امید کرتی ہیں کہ دونوں (ریپبلیکن اور ڈیموکریٹس) حتمی طور پر مل جل کر کامیاب امیگریشن اصلاحات کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔جبکہ صدر ٹرمپ نے اس پالیسی کے لیے اس قانون کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جو ان کے مطابق ‘ڈیموکریٹس نے دی ہیں۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ کس قانون کی بات کر رہے ہیں۔انھوں نے اپنے ٹویٹ میں ڈیموکریٹس پر زور دیا ہے کہ وہ ریپبلکنز کے ساتھ مل کر ایک نیا قانون بنائیں۔

بہر حال ناقدین کا کہنا ہے کہ بچوں کو والدین سے علیحدہ حراست میں رکھنے کی پالییسی کا اعلان گذشتہ ماہ امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے کیا تھا اور اس کو روکنے کے لیے کانگریس کے اقدام کی ضرورت نہیں۔اس پالیسی نے ریپبلکنز کو منقسم کر دیا ہے۔ اس پالیسی کا دفاع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جو والدین بار بار جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ان سے ان کے بچوں کو لے لیا جاتا ہے۔

بچوں کی اضافی حراست میں مبینہ طور پر شیرخوار اور پاؤں پاؤں چلنے والے بچے شامل ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پناہ گاہوں اور پرائے یا سوتیلے گھروں میں جگہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔دریں اثنا حکام نے شہر خیمہ بنانے کے منصوبے کا علان کیا ہے تاکہ ٹیکسس کے ریگستان میں جہاں درجہ حرارت مستقل طور پر 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے مزید سینکڑوں بچوں کو رکھا جا سکے۔

مقامی قانون ساز جوز روڈریگیز نے اس منصوبے کو مکمل طور پر غیر انسانی اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ‘جو کوئی بھی اخلاقی ذمہ داریوں کا حامل ہے وہ اس کی مذمت کرے گا۔مظاہرین نے اتوار کو ٹیکسس کے ٹورنیلو میں اسی طرح کی ایک آبادی کی جانب ریلی نکالی جہاں سینکڑوں بچے اپنے والدین کے بغیر رہ رہے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…