منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

عالمی سرمایہ کاری ثالثی معاہدہ پاکستان کیلئے ممکنہ جال

datetime 13  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی توانائی معاہدہ (ای سی ٹی) پرباضابطہ دستخط کرنے کی وجہ سے اسے نئے ثالثی سرمایہ کاری قوانین سے خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، جبکہ اس معاہدے کے تحت کئی بااثرسرمایہ کاروں نے دنیا کے مختلف ٹریبیونلز میں کئی ممالک کے خلاف 35 ارب ڈالر کے لیے مقدمہ دائر کیا ہوا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ تنبیہ یورپ کے دو غیر منافع ریسرچ اور ایڈوکیسی گروپ کارپوریٹ یورپ اوبزرویٹری (سی ای او) اور دی ٹرانزنیشنل انسٹیٹوٹ

(ٹی این آئی) کی پاکستان میں ای سی ٹی کے اثرات کے حوالے سے تحقیق میں سامنے آئی۔ پاکستان 2006 سے ای سی ٹی میں نگراں ممالک کے طور پر شامل ہے، تاہم یہ ملک میں زیادہ سرمایہ کاری اور توانائی فنڈنگ کے لیے اس کا مکمل ممبر بننے کا خواہاں ہے۔ دنیا کے 88 ممالک اس تنظیم کے ممبر ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق یورپ سے ہے۔ خیال رہے کہ آئل، گیس اور کوئلے کی بڑی پیداواری کمپنیوں کے ہاتھوں ای سی ٹی ایسا طاقت ور ہتھیار ہے جو ‘کلین انرجی’ کی جانب منتقلی میں حکومتوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ رپورٹ میں خبر دار کیا گیا ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان میں ثالثی سرمایہ کاری ایک متنازع فعل ہے لیکن پھر بھی حکومت ای سی ٹی کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بین الاقوامی کمپنیاں اس بین الاقوامی سرمایہ کاری کی مدد سے حکومتوں کے خلاف 35 ارب ڈالر تک کے مقدمے بین الاقوامی ٹریبیونل میں دائر کیے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی نگراں اداروں کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان اس وقت ایک ترک کمپنی ‘کارکے’ رینٹل پاور کیس میں 80 کروڑ ڈالر کا ثالثی ایوارڈ ختم کروانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جب پاکستان کو پہلی مرتبہ 1995 میں سوئیٹزرلینڈ کے ساتھ دو طرفہ معاہدے سے 2001 میں بین الاقوامی مقدمے کا سامنا کرنا پڑا، اس وقت حکومت میں کوئی بھی معاہدے کا مواد حاصل نہیں کرسکا، اور انہیں سوئس حکومت سے اس کی نقل کی درخواست کرنا پڑی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ تھر کے ریگستان میں چینی اور پاکستانی سرمایہ کار نئے پاور پلانٹ کے لیے گندے بھورے کوئلے کے لیے کھدائی کر رہے ہیں۔مقامی آبادی اپنے آباؤ اجداد کی جائیداد کے حصول کے لیے جنگ کررہی ہے، اور انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ کوئلے کی کانوں کی وجہ سے خشک سالی زدہ خطے میں فضائی آلودگی میں اضافہ، زیرِ زمین پانی ختم ہورہا ہے ۔اور ذریعہ معاش بھی ختم ہوجائے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان پلانٹس سے اربوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلی والی آب و ہوا میں اخراج ہوگا۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر چین اور پاکستان ای سی ٹی میں شامل ہوجائیں، اور اس کے بعد اگر مستقبل میں پاکستانی حکومت ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری کا فیصلہ کرتی ہے تو ایسے میں چینی سرمایہ کار اربوں ڈالر کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…