منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی میں مہاجرین کو روزگار کی فراہمی، اقوام متحدہ بھی کوشاں،تجاویز پیش کردیں

datetime 26  مئی‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)جرمنی میں مقیم مہاجرین کے لیے روزگار کی منڈیوں تک رسائی آسان بنانے کے لیے اقوام متحدہ اور اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم او ای سی ڈی نے تجاویز پیش کی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (یو این ایچ سی آر) اور اقتصادی تعاون و ترقی کے یورپی ادارے (او ای سی ڈی) نے جرمنی میں مہاجرین کو روزگار فراہم کرنے کے حوالے سے تجاویز پیش کی ہیں۔

ان بین الاقوامی اداروں کا کہنا تھا کہ مہاجرین کو روزگار کے حصول میں درپیش مسائل حل کرنے کے لیے جرمن زبان سکھانے کے بہتر انتظام کے علاوہ جرمن آجروں کو بھی زیادہ لچک دکھانا چاہیے۔یہ تجاویز اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی جرمن شاخ سے تعلق رکھنے والے ڈومینیک بارش نے جرمن دارالحکومت نے برلن میں ایک تحقیقی جائزے پر مبنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے پیش کی ہیں۔اس موقع پر جرمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نمائندے اسٹیفان ہارڈیگے کا کہنا تھا کہ جرمنی میں تارکین وطن کو یہ سہولت بھی مہیا کی جانا چاہیے کہ وہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ جرمن زبان کے خصوصی کورسز کر سکیں۔ ہارڈیگے نے تاہم یہ اعتراف بھی کیا کہ مہاجرین کو روزگار فراہم کرنے کے لیے جرمن اداروں کو بھی زیادہ لچک دکھانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمن آجروں کے لیے مہاجرین کو ملازمت پر رکھنے کی راہ میں ایک بڑی پریشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ مہاجر کو وطن واپس بھیج دیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں انہیں اضافی انتظامی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔اس دوران اقتصادی تعاون و ترقی کے یورپی ادارے (او ای سی ڈی) کے مہاجرین کے امور سے متعلق سینیئر اہلکار تھوماس لائبش کا کہنا تھا کہ مہاجرین کو ملازمتیں دینے والی کمپنیاں سمجھتی ہیں کہ وہ انہیں روزگار فراہم کر کے اچھا کام کر رہے ہیں لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ تارکین وطن اپنے جذبے کے باعث بہت اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں جس کی وجہ سے کمپنیوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…