جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

حساس ترین سرکاری ادارے میں 4ہزار سے زائد غیر قانونی بھرتیوں کی نشاندہی ہوگئی، افسوسناک انکشافات، چیف جسٹس نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 12  مئی‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی)سپریم کورٹ نے پولیس کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی سے متعلق سابق ڈی جی ایف آئی شاہد حیات کو طلب کرتے ہوئے وفاق و صوبائی حکومتوں سے 2 ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔ہفتے کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ پولیس میں غیر قانونی بھرتیوں، متفرق توہین عدالت کی درخواست سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل آئی جی ثنا اللہ عباسی نے پولیس افسران کے خلاف نئی انکوائری رپورٹ پیش کردی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے بتائیں

کتنے بڑے افسران کے خلاف کارروائی ہوئی؟ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ سنگین جرائم میں ملوث 17 اعلی پولیس افسران کے خلاف انکوائری وفاق کے سپرد کی۔ 6 افسران کے خلاف انکوائری مکمل ہوچکی ہے۔ ایک پولیس افسر جیل میں ہے۔رپورٹ کے مطابق سندھ پولیس میں 4000 سے زائد غیر قانونی بھرتیوں کی نشاندہی ہوئی۔ سابق آئی جی سندھ، 4 ڈی آئی جیز، 25 ایس پیز، 60 ایس ایس پیز سمیت دیگر افسران کے خلاف تحقیقات کی گئیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے جن افسران کے خلاف کارروائی ہوئی وہ رپورٹ پیش کی جائے۔ یہ رپورٹ تو ایسی ہیں جیسے چوہدری صاحب میں ناں ہی سمجھاں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا سیکشن افسر نے ادھوری رپورٹ بھیجی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آپ بتائیں وفاق کو کتنے افسران کی فہرست ملی ؟ کتنے افسران کی خلاف کارروائی ہوئی ؟ کتنی زیر التوا ہے ؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا بعض افسران کے خلاف سابق ڈی جی ایف آئی اے شاہد حیات کر رہے ہیں۔سید سلمان، فدا حسین شاہ، سابق آئی جی غلام حیدر جمالی، شہاب مظہر ملیح، اعتزاز گورایۂ، اظفر احسن، عمر طفیل، خالد مصطفی کورائی کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ پولیس افسران کے خلاف ریفرنس نیب کورٹ میں دائر کردیا گیا ہے۔ عدالت نے شاید حیات کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے بتایا جائے کتنے اضلاع میں تحقیقات باقی ہیں۔ ثنا اللہ عباسی نے بتایا کہ باقی رہ جانے والے 8 پولیس اضلاع کی بھی تحقیقات مکمل کرلی ہیں۔ غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث پولیس افسران کے نام سندھ حکومت کو ارسال کردیے۔عدالت نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے رپورٹ طلب کرلیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ بتایا جائے کتنے پولیس افسران کے خلاف حتمی کارروائی کی گئی۔ عدالت نے وفاق و سندھ حکومت سے بھی دو ہفتے میں پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…