پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

فلپائن کی جانب سے اپنے شہریوں کو واپس بلائے جانے کا ردعمل، کویت نے فلپائن کے سفارتخانے پر شرمناک کام میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کردیئے

datetime 22  اپریل‬‮  2018 |

کویت سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) کویتی پارلیمنٹ کے ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں فلپائن کی سفارتی نمائندگی کو کم کیا جائے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ مطالبہ فلپائن کے سفارت خانے کے کویتی شہریوں کے گھروں سے متعدد خادماؤں کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے پس منظر میں آیا ہے۔ادھر کویتی وزارت خارجہ نے فلپائن کے ایک ذمَے دار کی جانب سے کویت کو ضرر پہنچانے والے بیان کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر دوسری مرتبہ فلپائن کے سفیر ریناٹو پیڈرو اوویلا کو طلب کر لیا۔

کویت اور فلپائن کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ سے اضافہ سوشل میڈیا پر زیر گردش اْن وڈیو کلپوں کے سبب ہوا جن میں فلپائن کے سفارت خانے کے کئی اہل کار سفارتی نمبر پلیٹس کی گاڑیوں میں کویتی شہریوں کے گھروں سے خادماؤں کو اسمگل کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔کویت میں فلپائن کے سفیر نے اقرار کیا کہ سفارت خانے نے ایک زمینی ٹیم کے زریعے ان کارروائیوں میں مداخلت کی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ مذکورہ ٹیم نے ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے اپنا کام شروع کر رکھا ہے۔ البتہ اوویلا نے اس امر کی تردید کی کہ سفارت خانے کے ارکان نے کویتی شہریوں کے گھروں پر دھاوا بولا۔فلپائن کی وزارت خارجہ کے مطابق اس طریقے سے تقریبا 26 خادمات کو اسمگل کیا گیا۔اس کے مقابل کویتی پارلیمنٹ کے ارکان نے باور کرایا کہ فلپائن کے سفارت خانے نے جو کچھ کیا ہے وہ ریاست کی خود مختاری کی صریح خلاف ورزی اور قانون کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے۔ ارکان پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ منیلا کے سفارتی مشن کو نا پسندیدہ قرار دیا جائے تا کہ بین الاقوامی سطح کی خلاف ورزی کا اعادہ نہ ہو۔واضح رہے کہ فلپائن کے صدر نے کویت میں ایک اور فلپائنی ملازمہ کے قتل کے بعد کویت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اپنے تمام شہریوں کوواپس بلانے کا اعلان کیاتھا جس کے بعد بڑی تعداد میں فلپائنی ورکرز کویت سے واپس فلپائن جاچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…