پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر،کمسن آصفہ کی آبروریزی اور قتل، فارنزک ٹیسٹ رپورٹ نے گرفتارافراد کے المناک واقعے میں ملوث ہونے کی تصدیق کردی،لرزہ خیز انکشافات

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک) نئی دلی کی فارنزک لیبارٹری نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع کھوعہ میں کم عمر بچی آصفہ کی آبروریزی اور قتل میں گرفتا ر افرادکے المناک واقعے میں ملوث ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی انگریزی اخبار ’’انڈین ایکسپریس ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ فارنزک لیبارٹری میں جن اشیا کی ٹیسٹنگ کی گئی ان اندام نہانی کی

رطوبت، کم عمر بچی کی قمیض اور شلوار، جائے وقوعہ سے حاصل کی جانے والی مٹی اور خون کے نمونے شامل تھے۔  یہ نمونے یکم سے 21مارچ تک نئی دلی کی فارنزک لیبارٹری میں بھیجے گئے تھے۔ لیبارٹری کے ایک سینئر افسر نے تمام نمونوں کے ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ مجرموں کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی ان نموں سے میچ کر گئے ہیں۔افسر کے مطابق تمام ٹیسٹوں کی رپورٹ کشمیر پولیس کے کرائم برانچ میں 3اپریل کو جمع کرا دی گئی تھی۔یاد رہے کہ آصفہ کو ضلع کٹھوعہ کے علاقے رسانا سے روان برس دس جنوری کو اغوا کیا گیا تھا جبکہ 17جنوری کو اسکی مسخ شدہ لاش علاقے کے جنگل سے برآمد ہوئی تھی۔پولیس کے کرائم برانچ نے سپیشل پولیس افسر دیپک کھجوریہ اور دیگر بھارتی پولیس اہلکاروں کو بہیمانہ واقعے کا مجرم قرار دیتے ہوئے انکے خلاف عدالت میں چارج شیٹ جمع کرا دی ہے۔ واقعے کا ماسٹر مائڈ ایک ہندو انتہا پسند سابق بیورو کریٹ سنجے رام بتایا جا رہا ہے ۔ بے حرمتی اور قتل کا نشانہ بننے والی 8سالہ کم عمر بچی آصفہ کے حوالے سے میڈیکل رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ بچی کو اغوا کے بعد ایک مندر میں رکھا گیا تھا اور آبرو ریزی کے بعد اسے گلہ دبا کر قتل کیا گیا۔ واقعے کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ

اس بہیمانہ کارروائی کا مقصدکھٹوعہ میں رہائش پذیر مسلمانوں کو علاقہ چھوڑے پر مجبور کرنا تھا۔ جموں خطے کے ضلع کٹھوعہ میں ہندوؤں کی اکثریت ہے اور ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے مجرموں کو بچانے کی سخت کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ مقبوضہ علاقے میں مقائم کٹھ پتلی حکومت کی اتحادی تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام نہاد وزرا بھی مجرموں کے حق میں کھل کر آواز اٹھا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…