پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بس اب ہمیں آپ کی ضرورت نہیں! پاکستان نے امریکی ہتھیاروں پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ کب اور کیوں کیا؟بین الاقوامی اخبار فائنینشل ٹائمز کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 19  اپریل‬‮  2018 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)بین الاقوامی اخبار فائنینشل ٹائمز نے کہا ہے کہ پاکستان کا آہستہ آہستہ امریکی ہتھیاروں پر سے انحصار کم ہورہا ہے اور اس خلا کو چین پر کر رہا ہے جس کا اثر براہِ راست خطے کی سیاست پر پڑیگا۔انگریزی زبان میں شائع ہونے والے جاپانی اخبار فائنینشل ٹائمز کی ایک طویل رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی ہتھیاروں پر سے پاکستان کا انحصار کم ہونا اوباما انتظامیہ کے دورِ حکومت کے آخری کے دنوں میں شروع ہوا جب کانگریس نے پاکستان کو 8 ایف۔16 طیاروں کی فروخت روک دی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اوباما انتظامیہ کی جانب سے کیے والے اس فیصلے کو پاکستان میں اس ڈر کے تناظر میں دیکھا گیا کہ اب امریکا پر انحصار نہیں کیا جاسکتا جو جدید ہتھیاروں میں پاکستان کا اہم ترین ذریعہ ہے۔پاکستان نے ایف۔16 کے بجائے چین کے اشتراک سے تیار ہونے والے جے ایف۔17 تھنڈر کی جانب دیکھنا شروع کردیا جو اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے امریکی ساختہ طیارے کے ہی ہم پلہ ہے۔امریکی پابندی نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی فوجی طاقت کو امریکی ہتھیاروں سے دور کرتے ہوئے چین کے ہتھیاروں یا پھر ملکی سطح پر چین کے اشتراک سے بنائے گئے ہتھیاروں پر انحصار کرے۔فائنینشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں اسٹاکلم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ 2010 سے پاکستان میں امریکی ہتھیاروں کی برآمدات ایک ارب ڈالر سے کم ہو کر 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک آگئی جبکہ دوسری جانب چینی ہتھیاروں کی برآمدات 74 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 51 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں تاہم یہ اعداد و شمار چین کو پاکستان کیلئے سب سے بڑا ہتھیاروں کا برآمد کنندہ بناتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والی قربت میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کے امریکا پر

شکوک و شبہات بڑھ رہے تھے جو 2011 میں القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد مزید بڑھ گئے اور اس واقعے نے اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات کو مزید خراب کیا۔پاک امریکا تعلقات کو اس وقت مزید جھٹکا لگا جب امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس جنوری میں پاکستان کی دو ارب ڈالر کی فوجی امداد پر پابندی عائد کردی تھی۔اس امریکی اقدام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ واشنگٹن کا موقف ہے اسلام آباد اب افغانستان میں امریکا کی حمایت میں اتنا ذمہ دار نہیں رہا جتنا پہلے تھا۔سیاسی تجزیہ کار ہیرسن ایکنس نے فائنینشل ٹائمز کو بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے فیصلے نے اسلام آباد کو بیجنگ سے ہتھیار خریدنے پر مجبور کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…