پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

شام پر بمباری کے بعد ٹرمپ ہوش کھو بیٹھے ،خطرناک عزائم ظاہر کر دئیے ،پوری دنیا کا امن داؤپر لگ گیا

datetime 15  اپریل‬‮  2018 |

واشنگٹن(سی پی پی) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر شامی حکومت نے اپنے عوام پر دوبارہ کیمیائی حملہ کیا تو جواب میں امریکا پھر سے شام کو نشانہ بنائے گا۔بین الاقوامی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی صدر نے ایک بار پھر شامی حکومت کو کیمیائی گیس کے استعمال سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شہریوں پر مزید کیمیائی حملے ہوئے تو امریکا اپنے اتحادیوں کی مدد سے شام پر دوبارہ

میزائل حملہ کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائے گا جس کے لیے امریکا کی تیاریاں مکمل ہیں۔ قبل ازیں اپنی ایک ٹویٹ میں امریکی صدر نے شام پر میزائل حملے کو کامیاب مشن قرار دیتے ہوئے اپنے اتحادیوں برطانیہ اور فرانس کا شکریہ ادا کیا۔امریکا، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے شام پر میزائل حملے کو جہاں حلیف ممالک کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے ضروری اقدام قرار دے رہے تھے وہیں روس نے میزائل حملے کو جارحیت سے تعبیر کیا ہے۔ روس کے سفیر وسیلی نبینزیا نے اتحادی ممالک پر الزام لگایا کہ انھوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا معائنہ کرنے والی ٹیم کی دوما میں کیمیائی گیس کے استعمال ہونے کی تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی شام پر حملہ کر دیا۔دوسری جانب کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے نمائندے اس وقت شام کے دارالحکومت دمشق میں موجود ہیں جہاں سے انہیں کیمیائی گیس کے مبینہ استعمال سے متعلق تفتیش کرنے کے لیے دوما جانا ہے تاہم اس سے قبل ہی امریکا نے اپنے حلیفوں برطانیہ اور فرانس کی مدد سے گزشتہ روز شام میں واقع کیمیائی ہتھیار کی تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔واضح رہے کہ امریکا اور اتحادیوں کی فضائی کارروائی شام کی جانب سے مبینہ طور پر اپنے مخالفین پر کیمیائی گیس کے استعمال کے بعد کی گئی۔ شام کے شہر دوما میں کیمیائی گیس سے 100 سے زائد افراد کی ہلاک ہونے کی اطلاع تھیں جس پر امریکا نے اقوام متحدہ سے شام کے خلاف کارروائی کرنے کی استدعا کی تھی تاہم روس کی جانب سے امریکی قرارداد کو ویٹو کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب شام اور روس نے کیمیائی گیس کے استعمال کو بے بنیاد اور لغو الزامات قرار دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…