بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

دنیا بڑی تباہی سے بچ گئی،چین کا بے قابو خلائی سٹیشن ٹکڑے ٹکڑے ہو کربحرالکاہل میں گر کر تباہ

datetime 2  اپریل‬‮  2018 |

بیجنگ(آن لائن)چین اور امریکہ سے موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ناکارہ چینی خلائی سٹیشن زمین کے فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی زیادہ تر بکھر گیا اور جنوبی بحرالکاہل میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرا۔چین کے انسانی خلائی انجینیئرنگ آفس نے بتایا کہ یہ زمین کی خلائی حدود میں گرینچ کے معیاری کے وقت کے مطابق رات 12 بج کر 15 منٹ (پاکستان میں صبح پانچ بج کر 15 منٹ) پر داخل ہوا۔تیانگونگ 1 نامی یہ مصنوعی سیارہ

چین کے پرعزم خلائی پروگرام کا حصہ تھا اور 2022 میں ایک انسان بردار سٹیشن قائم کرنے کے منصوبے کی پہلی کڑی۔آٹھ ٹن وزنی اس خلائی گاڑی کو سنہ 2011 میں مدار میں چھوڑا گیا تھا لیکن سنہ 2016 میں اس نے کام کرنا بند کر دیا۔خلائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی بحرالکاہل پر گرا ہے لیکن یہ ایک وسیع خطہ ہے۔ماہرین کو اس کے گرنے کی جگہ کے تعین میں مشکلات کا سامنا تھا اور چینی خلائی ایجنسی نے اس کے زمین کے فضائی حدود میں داخل ہونے سے ذرا قبل یہ بات کہی کہ یہ برازیل کے ساؤ پالو سے دور گرے گا جو کہ غلط اندازہ تھا۔یورپی سپیس ایجنسی نے پہلے ہی کہا تھا کہ تیانگونگ۔1 سمندر پر ٹوٹ کر بکھر جائے گا۔ اس نے کہا تھا کہ اس کے ملبے کا کسی شخص پر گرنے کا امکان کسی شخص کے آسمانی بجلی کی زد میں آنے سے ایک کروڑ گنا کم ہے۔بہر حال ابھی یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ کتنا ملبہ زمین پر سالم گرا ہے۔اصولی طور پر دس میٹر لمبے تیانگونگ کو مدار سے منصوبہ بند طریقے سے ہٹایا جانا چاہیے تھا۔ روایتی طور پر اس بڑی خلائی گاڑی پر تھرسٹر داغ کر اسے جنوبی سمندر کے دور دراز علاقے میں گرانا چاہیے۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کمانڈ کا رابطہ منقطع ہونے کے بعد وہاں یہ آپشن نہیں رہ گیا تھا۔یورپی سپیس اینجسی کی قیادت میں 13 سپیس ایجنسیاں راڈار اور دوربین کے ذریعے تیانگونگ کے گرنے کے عمل پر نظر رکھ رہے تھے۔دریں اثنا انڈیا کے خلائی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ تین روز پہلے خلا میں چھوڑی جانی والی خلائی سیٹیلائٹ سے ان کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ انڈین سپیس ریسرچ آرگینائزیشن (آئی ایس آر او) کا کہنا ہے کہ وہ جی ایس اے ٹی۔ 6 اے سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سیٹیلائٹ کا وزن دو ہزار ٹن ہے اور اسے انڈین ملٹری کے لیے بنایا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…