منگل‬‮ ، 23 جون‬‮ 2026 

بے نظیر نے اپنی زندگی میں بیس برس قبل صرف ایک وصیت کی ، اس وصیت میں انہوں نے کیا لکھوایا؟ معروف صحافی وصیت کا متن سامنے لے آئے

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |
Former Pakistani Prime Minister Benazir Bhutto adjusts her scarf at a campaign rally in Pabbi, 120 kilometers (75 miles) west of Islamabad, Pakistan, Wednesday Dec. 12, 2007. Bhutto repeated accusations that Musharraf will try to cheat by using police, judiciary officials and administration functionaries. (AP Photo/Greg Baker)

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف کالم نگار منیر احمد بلوچ نے اپنے کالم میں لکھا کہ اب وہ نا قابل تردید ثبوت سامنے لانا بھی ضروری ہو گیا ہے‘ جو ثابت کرے گا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں سوائے 20 برس قبل ایک وصیت کرنے کے‘ کوئی وصیت نہیں کی تھی۔ مذکورہ وصیت بھی اس وقت کی گئی تھی جب بلاول سمیت بختاور اور آصفہ ابھی چھوٹے تھے اور اس وصیت کے تحت ان کے بالغ ہونے تک محترمہ فریال تالپور اور ان کے شوہر منور تالپور کو اپنی جائیداد کا گارڈین مقرر کیا تھا۔

مذکورہ وصیت کی فوٹو کاپی میں ان کا لندن کا ایڈریس دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کوئی وصیت نہیں۔ میں پورے وثوق سے لکھ رہا ہوں کہ محترمہ نے دبئی سے پاکستان آنے سے پہلے کسی قسم کی بھی سیاسی یا مالی وصیت نہیں کی تھی اور اس کی گواہی کوئی اور نہیں بلکہ ایک ایسا شخص دے گا‘ جو محترمہ بے نظیر بھٹو فیملی کا سب سے اہم ترین فرد ہو گا (شاہ نواز یا مرتضیٰ بھٹو کی فیملی کا کوئی ممبر نہیں) میں نے جن خدشات کا ابتدا میں ذکر کیا تھا ان کے مطابق سجاد علی شاہ پر گرائے گئے کوئٹہ میزائل جیسا ایک اور میزائل پھر سے تیار کیا جا رہا ہے۔ ملک کی سپریم عدلیہ کو بدنام کرنے کیلئے ان پر دھوئیں کے بم پھینکنے کیلئے اداکاروں کی بریفنگ جاری ہے۔ آپ کو یاد تو ہو گا کہ کوئی دو برس پیشتر پشاور ہائیکورٹ کے ایک جج کی گاڑی کو بنوں چھاؤنی کے سکیورٹی پوائنٹ پر کھڑے فوجیوں نے روک کر جو گستاخی کی تھی‘ ان جج صاحب کی طبیعت پر اس قدر گراں گزری کہ انہوں نے اگلے روز عدالت میں ہنگامہ کیا تو ساتھ ہی لبرلز اور نواز لیگ کے سوشل میڈیا نے فوج کے لتے لینے شروع کر دیئے تھے۔ ان سے معذرت کی گئی‘ اس کے باوجود ان کا غصہ ٹھنڈا نہ ہو سکا‘ اور وہ ملک کی اس اہم ترین شخصیت کے قریب ترین ہو گئے‘ جس کے دل میں فوج کے خلاف نفرت کے سوا اور کچھ نہیں۔ ان جج صاحب نے اپنے اور اپنے ”دوست‘‘ کے سمجھے گئے دشمن سے ملٹری چیک پوسٹ پر روکے جانے کی ذلت کا بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا… اور جیسے ہی وہ جج سپریم کورٹ پہنچنے میں کامیاب ہوئے تو انہوں نے وفاداری کا اظہار کر دیا۔ اب چند روز ہوئے میاں نواز کے وہ ”دوست‘‘ اپنے عہدہ جلیلہ سے ریٹائر ہو چکے ہیں‘ لیکن انہوں نے جاتے جاتے بھی بنوں چھاؤنی کے گیٹ پر سکیورٹی پوسٹ پر اپنی گاڑی روکے جانے پر میاں نواز شریف کے ایجنڈے کی تقویت کیلئے اس میں نفرت کے نئے رنگ بھرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…