بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

انجکشن نہیں گولی: کھائی جانے والی ویکسین تیار

datetime 20  مارچ‬‮  2018 |

لندن(سی ایم لنکس) برطانیہ کے سائنس دان ویکسین کو انجکشن کے بجائے گولیوں (ٹیبلٹس) کی شکل میں ڈھالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد ویکسین لگوانے کیلیے انجکشن کی تکلیف دہ سوئی برداشت نہیں کرنا ہوگی بلکہ ویکسین کو گولی کی شکل میں بہ آسانی اسی طرح نگلا جاسکے گا جیسے ہم دردِ سر کی عام گولیاں کھاتے ہیں۔عموماً بیماریوں سے محفوظ رہنے کیلیے ویکسین کے حفاظتی ٹیکے لگوائے جاتے ہیں جو بچوں کیلیے تکلیف

دہ ہوتے ہیں جب کہ وہ لوگ جو انجکشن لگوانے سے ڈرتے ہیں، اْن کیلیے بھی ویکسی نیشن ایک خوف زدہ عمل ہوتا ہے۔ تاہم اب سائنس دانوں نے اس مسئلے کے حل کی جانب ایک اور کامیاب قدم بڑھایا ہے۔ویکسین کو گولیوں کی شکل میں لانے کی تحقیقی کوششیں کئی برسوں سے جاری ہیں لیکن اب تک اس ضمن میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ اس ضمن میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ویکسین کو کسی طرح گولی کی شکل دے بھی دی جائے تو ہاضمہ کرنے والے مادّے (تیزاب اور ہارمون وغیرہ) پیٹ میں پہنچنے والی اس ویکسین کو توڑ پھوڑ کر غیر مؤثر کردیتے ہیں۔ یعنی ویکسین کا صرف گولیوں کی شکل میں لانا ہی کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ معدے سے خون میں جذب ہونے تک اپنی مؤثر حالت میں برقرار رہے تاکہ مفید بھی ثابت ہو۔ البتہ یہ کامیابی اب تک ہماری پہنچ سے دْور ہی ہے۔تاہم اب کارڈف یونیورسٹی میں سائنس دانوں نے ویکسین کو گولیوں کا رْوپ دینے کا ایک کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔ ابتدائی طور پر فلو ویکسین کو ٹیبلیٹ کی شکل میں لایا گیا ہے جو جلد ترقی یافتہ ممالک میں دستیاب ہوگی۔ اس کی کامیابی کے بعد دیگر امراض سے محفوظ رکھنے والے ٹیکوں کو بھی گولیوں کی شکل میں تیار کرلیا جائے گا۔کارڈف یونیورسٹی میں مذکورہ ریسرچ ٹیم کے

سربراہ کا کہنا تھا کہ ویکسین، جسم کے مدافعتی نظام کو بیماری کا حملہ ہونے سے پہلے ہی اسے ناکام بنانے کیلیے تیار کردیتی ہے؛ اور جب وہ بیماری (جس کی ویکسین دی جاچکی ہے) حملہ آور ہوتی ہے تو وہ جسم کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہتی ہے۔ البتہ یہ مسئلہ بھی ہے کہ ویکسین کو فیکٹری سے لے کر مریض تک پہنچانے تک، خاصے سرد درجہ حرارت میں محفوظ رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے جبکہ معدے میں پہنچ کر ویکسین کے غیر مؤثر

ہوجانے والا مسئلہ اپنی جگہ پہلے سے موجود ہے۔ناٹنگھم یونیورسٹی کے شعبہ سالماتی وائرسیات (مالیکیولر وائرولوجی) کے پروفیسر جوناتھن بل نے اس کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ ویکسین کو منہ کے ذریعے لی جانے والی دوا میں تبدیل کرنا بہت اہم قدم ہے۔ البتہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ منہ سے کھائے جانے والی گولیوں میں ڈھلنے کے بعد ویکسین کے مالیکیولز اپنا کردار کس طرح ادا کرتے ہیں اور بیماریوں کے خلاف اتنی ہی مدافعت پیدا کر پائیں گے جتنا انجکشن کے ذریعے دی جانے والی ویکسین پیدا کرتی ہے؟ اس کے بعد ہی ویکسین والی گولیوں کو کامیاب کہا جاسکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…