منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پی آئی اے کو بچانے میں حکومت کی کوئی دلچسپی نہیں ،ائیر لائن کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

datetime 16  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) پی پی اے کی کارکردگی پرسینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے بعد، ایئر لائن کی گزشتہ چار سالوں میں تباہ کن کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نائب صدر پی پی پی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پی آئی اے کو بچانے کے لئے حکومت کی طرف سے کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی گئی نا ہی پارلیمنٹ کمیٹی کی تحقیقات کے بعدایئر لائن کو نقصان پہچانے والوں کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی ۔

کمیٹی کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا سنجیدگی سے جوابات نہیں دئے گئے مثال کے طور پر، پریمیئر سروس کے قیام ، کاروباری منصوبے کمی اور اس جی وجہ سے ہونے والے 3 بلین روپے کے نقصانات پر کبھی بھی کمیٹی کوتسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ 345 بلین روپے کے نقصانات سے چند درجن طیاروں سے چلنے والی اس ایئرلائن اب دنیا کی سب سے خراب اورغیر منظم ہوائی کمپنیوں میں شمار ہوتا ہے ۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پی آئی اے کے انتظامیہ کی غفلت، بدعنوانیوں اور نقطہ نظر کی کمی ایئر لائن کی خراب کارکردگی کی وجہ ہے ۔ اس ادارے کو بچانے کہ لئے ایک قابل اور سنجیدہ انتظامیہ کی سخت ضرورت ہے۔حیران کن بات ہے کہ کمیٹی کی نشاندہی کی باوجو لیپزگ میوزیم جرمنی میں موجود د ایئر بس پر کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی ۔ میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مظفر ایچ شاہ کی طرف سے کئے جانے والے اچھے کام کی تعریف کرتی ہوں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہمارے تمام مشوروں ، نگرانی اور رہنمائی کا ایوی ایشن کی بہری انتظامیہ پرکوئی اثر نہیں ہوا۔ شیری رحمان نے کہا کہ حکومت نے اوپن اسکائی پالیسی شروع کر نے سے قبل پارلیمنٹ سے مشاورت نہیں کی اگر کی ہوتی تو قومی خرانے اور قومی ائیرلائن کو اربوں روپے کا نقصان نہ ہوتا۔ پی آئی اے بین الاقوامی حفاظتی قواعد و ضوابط پورا کرنے میں ناکام رہی ہے اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس کی وجہ سے ایئر لائن اپنے بین الاقوامی لائسنس سے محروم ہو جائے گی۔ شیری رحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی حکومت کے غیر شفاف نجکاری کی منصوبہ بندی کی مخالفت کرتی ہے اورہر فورم پر اس منصوبابندی کا مقابلہ کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…