منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ٗسائبر کرائمز برانچ نے مالاکنڈ کے علاقہ بٹ خیلہ سے چائلڈ پورنوگرافر کو گرفتار کرلیا

datetime 2  فروری‬‮  2018 |

پشاور،کراچی (این این آئی) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائمز برانچ نے مالاکنڈ کے علاقہ بٹ خیلہ سے چائلڈ پورنوگرافر کو گرفتار کرلیا ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم نے سوشل میڈیا پر خود کو خاتون ظاہر کرکے جعلی اکاؤنٹ بنایا تھا۔ملزم دوستی کے ذریعے بچوں کی تصاویر اور وڈیوز حاصل کرتا تھا اور بچوں سے حاصل کردہ وڈیوز کو انہیں بلیک میل کیلئے استعمال کرتا تھا۔گزشتہ روزنجی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر

سائبر کرائمز ایف آئی اے کیپٹن (ر) محمد شعیب نے پاکستان میں چائلڈ پورنو گرافی میں ملوث گروہ کی موجود کا انکشاف کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں چائلڈ پورنو گرافی کے چار کیسز رجسٹرڈ ہیں جن میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اس حوالے سے ملوث گروہ موجود ہیں جبکہ ملزمان کے خلاف شکایات بیرون ملک سے آئیں۔انہوں نے بتایا کہ چار کیسز کے علاوہ چار دیگر انکوائریاں بھی جاری ہیں۔دریں اثناء کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے ایک کوچنگ سینٹر میں 7 سالہ بچے کو مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔نیو ٹاؤن پولیس حکام کے مطابق لڑکے کی لاش نیشنل اسٹیڈیم کے قریب کوچنگ سینٹر کی عمارت سے ملی۔پولیس حکام نے بتایا کہ لاش کو سول ہسپتال کراچی میں پوسٹ مارٹم کیلئے منتقل کردیا گیا۔پولیس سرجن ڈاکٹر قرار احمد عباس کا کہنا تھا کہ لڑکے کو ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔نیو ٹاؤن پولیس حکام کا کہنا تھا کہ بچے کے والد عبدالستار شاہ اس ہی کوچنگ سینٹر میں ایک گارڈ کی حیثیت سے ملازمت کرتے ہیں اور سینٹر کے ملازم خانے میں رہائش پذیر تھے۔ان کا کہنا تھا کہ والد نے دوپہر ساڑھے 12 بجے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ ان کا بچہ لاپتہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس معاملے پر تحقیقات کر رہی ہے جس کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ 2018 کے آغاز سے اب تک پاکستان میں ریپ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ ماہ کے اوائل میں قصور میں زینب انصاری کے بے رحمانہ قتل کے بعد ملک میں زینب کو انصاف دو کے نام سے ایک نئی احتجاجی لہر کا آغاز ہوا تھا۔بچوں کے ساتھ زیادتی کے خاتمے کے لیے اس احتجاجی لہر میں ملک بھر میں مظاہرے دیکھے گئے تھے۔جنوری ہی کے مہینے راولپنڈی کے رزاق ٹاؤن میں 15 سالہ بچے کو غیر قانونی طور پر قید اور جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا تھا۔پنجاب کے ضلع سرگودھا میں با اثر خاندان سے تعلق رکھنے والے دو افراد پر مبینہ طور پر ایک نوجوان لڑکے کے ساتھ زیادتی کے بعد زہر دے کر قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔علاوہ ازیں اس ہی مہینے کے آخر میں شیرا کوٹ میں 8 سالہ بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا۔قتل کیے گئے بچے کی لاش اس کے گھر سے تقریباً آدھا کلومیٹر کے فاصلے پر ایک زیر تعمیر عمارت سے ملی تھی جس کی نشاندہی ایک مقامی کی جانب سے کی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…