منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’گندا‘‘ ہے پر ’’دھندہ‘‘ ہے، پاکستان میں بچوں اور لڑکیوں کی فحش ویڈیوز بنانے کا کاروبار عروج پر، ایف آئی اے نے بھی تصدیق کر دی، چونکا دینے والے انکشافات

datetime 29  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق وسطی پنجاب کے علاقے بچوں اور لڑکیوں کی فحش ویڈیوز بنانے اور انہیں انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے میں سرفہرست ہیں۔ اس حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پنجاب کے علاقے قصور میں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد ان کو قتل کرنے کے واقعات سامنے آنے پر ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کی ہدایات پر پاکستان میں پہلی دفعہ ایک الگ دو رکنی ٹیم بنائی گئی ہے،

جو ملک کے مختلف علاقوں میں بچوں کی جنسی تشدد پر مبنی فلمیں بنانے والے ملزمان کے خلاف کارروائی کرے گی اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی اقدام کرے گی، سائبر کرائم کا شعبہ اس سے قبل ان معاملات کو دیکھتا تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کے حکام کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ملک میں بچوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوز اور تصاویر بنانے اور انہیں انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے کے جن مقدمات کا اندراج ہوا ہے ان میں پنجاب اور بالخصوص وسطی پنجاب کے علاقے سرفہرست ہیں، ان علاقوں سے متعدد ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی کی جانب سے بنائی جانے والی دو رکنی ٹیم کے سربراہ عمران حیدر نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ جنسی تشدد کے واقعات، نازیبا ویڈیوز بنانے اور انہیں اپ لوڈ کرنے کے واقعات کے سدِباب اور کارروائی کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کے علاوہ مقامی افراد سے بھی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے بھی ایک خصوصی سیل کا قیام کردیا ہے جو انٹرنیٹ پر نازیبا تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والوں کی نشاندہی کرے گا جب کہ انٹرنیٹ پر نازیبا تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے لوگوں سے بھی تحقیق کی جائے گی۔ دو رکنی ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ متاثرہ افراد اور گھرانوں کی شکایات درج نہ کرانے کی وجہ سے متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی میں تاخیر ہو رہی ہے، دو رکنی ٹیم کے سربراہ عمران حیدر نے بتایا کہ اب تک جن افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ان میں سے اکثر لوگوں کے خلاف شواہد اور اطلاعات مختلف ممالک سے انٹرپول کے ذریعے پاکستانی انٹرپول کو بھجوائی گئیں، انہوں نے ایک حیران کن بات یہ بتائی کہ ان کیسز میں جتنے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے وہ انتہائی پڑھے لکھے اور پروفیشنل ڈگری کے حامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…