پیر‬‮ ، 27 اپریل‬‮ 2026 

امریکہ افغانستان میں اپنی 16 سالہ ناکامی کا الزام ہم پر لگارہاہے،اسے سمجھائیں افغان مسئلہ حل کرنا ہے تو پھر یہ ایک کام کرنا ہی ہوگا،پاکستان نے یورپی ممالک کو اہم پیغام دیدیا

datetime 28  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی 16 سالہ ناکامی کا الزام پاکستان پر لگا رہا ہے، پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے،جب تک افغانستان میں صورتحال غیر مستحکم رہے گی تب تک پاکستان میں بدامنی برقرار رہے گی ۔ بلجیم میں پاکستانی سفارتخانہ کی طرف سے یہاں موصولہ پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ٹی وی اور ریڈیو چینل کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان پر بہت الزام تراشیاں کی گئیں اور ایک وجہ یہ الزام تراشیاں بھی ہیں کہ ہم نے افغان سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کا کام شروع کیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم نے کہا کہ آپ الزام تراشیاں میں مصروف رہیں کہ افغان سرحد سے آر پار لوگ آ جا رہے ہیں، ہم افغانستان کے ساتھ 2600 کلومیٹر سرحد پر باڑ لگائیں گے، پاکستان نے 250 کلومیٹر پر باڑ لگانے کا کام تقریباً مکمل کر لیا ہے، کسی نے اس میں ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی 16 سالہ ناکامی کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے، امریکہ نے کھربوں ڈالر خرچ کئے، ہزاروں فوجیوں کی جانیں قربان کیں اور بہت سے زخمی ہوئے مگر اس وقت بھی افغانستان کے 45 فیصد علاقے افغان حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ جب تک افغانستان میں صورتحال غیر مستحکم رہے گی تب تک پاکستان میں بدامنی برقرار رہے گی۔ پاک۔امریکہ تعلقات کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ ہم توقع کر رہے ہیں کہ اہل یورپ ہمارا نقطہ نظر امریکیوں کو پہنچائیں گے جو اس وقت پاکستان کے نقطہ نظر کو سمجھنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وزیردفاع نے کہا کہ ہمارا نقطہ نظر ہے کہ افغانستان میں جمہوری استحکام ناگزیر ہے۔ پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ مجموعی طور پر داخلی سلامتی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے

اور میرے نزدیک اس سے بڑھ کر کوئی اور بہتر الفاظ نہیں کہ ہم نے معجزاتی طور پر داخلی سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنایا ہے اور اسی لئے اب پورا پاکستان پرامن ہے، اب بھی دہشت گردی کے چند واقعات رونما ہوئے ہیں لیکن بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے واقعات میں 80 فیصد تک کمی آئی ہے جو 2012ء میں اپنے عروج پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے 2017ء کے واقعہ جس میں 142 بچے شہید ہوئے، نے پاکستانی عوام کے ذہنوں سے ابہام کو دور کر دیا کہ دہشت گردوں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ان کی کوئی قومیت ہے،

دہشت گرد صرف ایک لعنت ہیں جو پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں اقتصادی صورتحال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انجینئر خرم دستگیر خان نے کہاکہ اس وقت پاکستان دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی کنزیومر مارکیٹ بن گیا ہے جہاں بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان کی کنزیومر مارکیٹ میں بھرپور دلچسپی لے رہی ہیں اور کاروبار کرنے کی خواہاں ہیں ٗپاکستان میں بنیادی ڈھانچہ ترقی پا رہا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ پاکستان اپنی تزویراتی جغرافیائی حیثیت سے استفادہ کرنے کی پوزیشن میں ہے، اب چین پاکستان اقتصادی راہداری اور اس کے تحت آنے والی سرمایہ کاری کے نتیجہ میں اس سے فائدہ ملے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم (آخری حصہ)


میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…