بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

روپے کی بے قدری،صورتحال تشویشناک ہوگئی ڈالر کی 100 فیصد کیش درآمد بحال کرنے کی تیاریاں،بڑا فیصلہ کرلیاگیا

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی نسبت پاکستانی روپے کی قدر میں نمایاں کمی کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے فاریکس ایسوسی ایشن کو قابل اجازت کرنسیوں کی برآمد کے عوض ڈالر کی 100 فیصدکیش درآمدبحال کرنے کا یقین دلادیا ہے۔یہ یقین دہانی گزشتہ روزڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد نے فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک محمد بوستان ودیگرممبرایکس چینج کمپنیوں پر مشتمل ہنگامی اجلاس میں کرائی۔

ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہر فیصلہ قومی مفاد میں کیا جائے گا اور اگر ایکس چینج کمپنیوں کوڈالر کے علاوہ دیگر غیرملکی کرنسیوں کی برآمدات کے عوض ڈالر کی 100 فیصد کیش درآمدکرنے کی اجازت سے پاکستانی روپے کی قدر مستحکم ہوسکتی ہے تویہ اجازت دے دی جائے گی۔دوران اجلاس فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان نے بتایا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیانات، امداد کی معطلی اور معاشی پابندیوں کی دھمکیوں کے علاوہ اسٹیٹ بینک کی ایکس چینج کمپنیوں کی جانب سے ڈالر کے علاوہ برآمد کی جانے والی دیگر غیرملکی کرنسیوں کے عوض صرف35 فیصد کیش ڈالردرآمدکرنے اور باقی ماندہ 65 فیصد بینکوں کے توسط سے لانے کے احکام یکم جنوری2018 سے موثربہ عمل ہونے سے ڈالر کی قدر میں اضافے کا رحجان غالب ہوا۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی بینک کے اس اقدام کے بعد تجارتی بینکوں کی جانب سے پورے ہفتے کے بجائے صرف 2 دن ایکس چینج کمپنیوں کو ان کے حصے کا ڈالر سپلائی کیا گیا جس سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی طلب ورسد کا توازن بگڑگیااور پیر کوڈالر کے اوپن مارکیٹ ریٹ 113.50 روپے کی بلند سطح تک پہنچ گئے تھے تاہم اسٹیٹ بینک کے اس نئے اقدام کی اطلاعات کے باعث اوپن مارکیٹ میں روپے کی نسبت ڈالر کی قدردوبارہ90 پیسے گھٹ کر112.40 روپے کی سطح پرآگئی۔ ملک بوستان نے بتایا کہ عوام کی جانب سے اگر ڈالر کی خریداری محدود ہوگئی تو رواں ہفتے کے اختتام تک امریکی ڈالر کی قدر دوبارہ111 روپے کی سطح پر آجائے گی۔ انہوں نے ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد کے اس نئے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی ترقی واستحکام پاکستانی روپے کی قدر کے استحکام سے مشروط ہے جس کے لیے فاریکس ایسوسی ایشن اپنا کردار ہمیشہ ادا کرتی رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…