منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایس ایم ایس کی ایجاد کو 25سال مکمل ،پہلا میسج کس نے ،کس کو بھیجا تھا،حیرت انگیز معلومات

datetime 5  دسمبر‬‮  2017 |

نیویارک(این این آئی)موبائل فون کے ذریعے پیغام بھیجنے کے عمل یا عرف عام ایس ایم ایس کو 25 سال مکمل ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پہلا ایس ایم ایس برطانیہ کی ایک ٹیلی کام کمپنی سیما گروپ کے 22 سالہ ملازم نیل پاپورتھ نے کرسمس پارٹی میں مصروف کمپنی کے ڈائریکٹر رچرڈ دیرواس کو ارسال کیا تھا۔نیل پاپورتھ نے یہ میسج کمپیوٹر کے ذریعے ٹائپ کرکے ارسال کیا تھاکیونکہ اس وقت تک ٹیلی فون میں کی بورڈ کی

سہولت نہیں تھی جبکہ نیل پاپورتھ کو اپنے اوربیٹل 901 ہنڈ سیٹ پر یہ پیغام موصول ہوا تھا، مگر اس وقت جوابی میسج نہیں بھیجا جاسکا تھا کیونکہ اس دور میں فون سے ٹیکسٹ بھیجنے کا کوئی طریقہ موجود ہی نہیں تھا۔اگرچہ پاپورتھ کو پہلا ایس ایم ایس بھیجنے کا اعزاز حاصل ہے مگر اس کا خیال 1984 میں میٹی میککونین نے ایک ٹیلی کمیونیکشن کانفرنس کے دوران پیش کیا تھا۔مگر ٹیکسٹ پیغامات کو مقبولیت راتوں رات نہیں ملی تھی بلکہ اس کے لیے کافی کام کرنا پڑا تھا۔سب سے پہلے تو اس فیچر کو جی ایس ایم اسٹینڈرڈ کا حصہ بنایا گیا اور صحیح معنوں میں یہ سروس 1994 میں اس وقت متعارف ہوئی جب نوکیا نے اپنا موبائل فون 2010 فروخت کے لیے پیش کیا جس میں آسانی سے پیغام تحریر کرنا ممکن تھا۔آج 97 فیصد اسمارٹ فون صارفین ٹیکسٹ پیغامات کسی نہ کسی شکل میں بھیجتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک موبائل فون کی مخصوص زبان بھی تشکیل پارہی ہے۔مختلف رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں صرف ایک روز میں 18.7 ارب تحریری پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔ایس ایم ایس کی وجہ سے لمبے چوڑے خطوط لکھنے کی روایت بھی لگ بھگ ختم ہوکر رہ گئی ہے جبکہ عید یا مخصوص مواقعوں کے لیے کارڈز بھی اپنی موت آپ مرگئے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق موبائل فون صارفین کالز کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ تحریری پیغامات بھیجتے یا موصول کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…