اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

حامد میر ہی کو عمران خان کے گندے میسجز کیوں دکھائے، چلیں ہم لڑکیاں ہیں ہم سے کیا پردہ ہمیں دکھا دیں، طلبا و طالبات کے سوالات پر عائشہ گلالئی کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں

datetime 28  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )عمران خان کے ایس ایم ایس ہمیں دکھا دیں ہم تو لڑکیاں ہیں، نجی یونیورسٹی کی طالبات کا گلالئی سے مطالبہ، نازیبا میسجز حامد میر کو ہی کیوں دکھائے تمام میسجز عوام کو دکھانے چاہئے

تھے، طالب علم بھی پیچھے نہ رہے، ایسا سوال کر ڈالا کہ گلالئی کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سما نیوز کے پروگرام ’’ہم لوگ‘‘میں نجی یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کے سوالوں نے عائشہ گلالئی کو پریشان کر کے رکھ دیا۔ پروگرام کے دوران یونیورسٹی کی طالبات نے عائشہ گلالئی کو کہا کہ آپ وہ میسجز اگر سب کو نہیں دکھا سکتی تو چلو ہم لڑکیا ںہیںہمیں دکھا دیں، اسی دوران ایک طالب علم نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے عمران خان کے نا زیبا میسجزحامد میر کو ہی کیوں دکھائے حالانکہ آپ کو تمام میسجز عوام کو دکھانے چاہیے تھے۔ طلبا و طالبات کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے عائشہ گلالئی کا کہنا تھا کہ حامد میر سے میری سلام دعا کافی پہلے سے تھی ، جب انہوں نے وہ میسج دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو میں نے انہیں دکھا دئیے۔ بس اس لئے وہ میسجز پبلک نہیں کئے تا کہ پی ٹی آئی کی بد تمیزی کا کلچر جو پھیل رہا ہے میں بھی اس میں شامل نہ ہو جاؤں ۔میں ان میسجز کو لیگل فارم پر لے کر چلوں گی جہاں پر عمران خان کے لئے سزا کا تعین بھی ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…