جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کمپنی کی ملکیت شریف خاندان کی،ملتان میٹرو بس منصوبے میں مبینہ کرپشن کامعاملہ نیا رُخ اختیارکرگیا،حیرت انگیز حقا ئق منظر عام پر

datetime 27  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آ باد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ملتان میٹرو بس منصوبے میں مبینہ کرپشن کے معاملہ پر سیکور ٹیز ایند ایکس چینج کمیشن آ ف پاکستان کو خط لکھ دیا اورحقا ئق چھپانے پر اظہار ناراضگی کیا،خط میں استفسار کیا گیا ہے کہ قا ئمہ کمیٹی کو بتایا جائے کہ چین کے سکیورٹیز کمیشن کی جانب سے جو دستاویزات فراہم کی گئیں تو کیا اس میںیہ معلومات شامل تھی کہ کمپنی کی ملکیت شریف خاندان کی ہے،

اس معاملہ کو ایف آئی اے کو بھیجنے میں تاخیر کیوں کی گئی جبکہ یہ واضح منی لانڈرگ کا کیس تھا۔تفصیلات کے مطابق ملتان میٹرو بس منصوبے میں کرپشن کے معاملہ پر قائمہ کمیٹی ک چئیرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سیکور ٹیز ایند ایکس چینج کمیشن آ ف پاکستان( ایس ای سی پی) کو خط لکھ دیا۔ خط میں ایس ای سی پی کی جانب سے حقائق چھپانے پر چئیرمین قائمہ کمیٹی نے اظہار ناراضگی کیا۔ملتان میٹرو بس منصوبے کے حوالے سے ایس ای سی پی کو ضروری معلومات فوری فراہم کرنے کا حکم دیا۔ خط میں انہوں نے استفسار کیا کہ قائمہ کمیٹی کو بتایا جائے کہ چین کے سکیورٹیز کمیشن کی جانب سے جب دستاویزات فراہم کی گئیں تو کیا اس میںیہ معلومات شامل تھی کہ کمپنی کی ملکیت شریف خاندان کی ہے؟۔اس حوالے سے معلومات اوردستاویزات فراہم کی جائیں۔چین کے سکیورٹیز کمیشن کے ساتھ تبادلہ کی گئی تمام دستاویزات اور معلومات فراہم کی جائیں۔ کمیٹی کو بتایا جائے کہ اس کیس کو ایف آئی اے کو بھیجنے میں تاخیر کیوں کی گئی جبکہ یہ واضح منی لانڈرگ کا کیس تھا۔ان افسران کے نام بتائے جائیں جنہوں نے دستاویزات کو صیغہ راز میں رکھا، معلومات کو چھپانے والے افسران کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔بتایا جائے کی ایس ای سی پی کی جانب سے نو ماہ تک ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔یاد رہے کہ چین کی جانب سے یہ واضح کیا جاچکا ہے کہ یابیت کمپنی کو پاکستان میں کوئی کام نہیں دیا گیا۔کمپنی کو چین میں جعلی خطوط لکھ کر حکومت کو دھوکہ دینے پر سزا سنائی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…