منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اسپیکر قومی اسمبلی نے پاناما بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کیخلاف 5 صفحات پر مشتمل ریفرنس دائر کردیا

datetime 19  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی )اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور پاناما بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کیخلاف 5 صفحات پر مشتمل ریفرنس دائر کردیا۔ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ سپیکر کو وزیراعظم کا وفادار قرار دینا حقائق کے منافی ہے، معزز جج کے ریمارکس سے سپیکر آفس کی توہین ہوئی،

ان ریمارکس نے کئی منفی سوالات اٹھا دئیے۔ معزز جج کے ریمارکس سے ذاتی عناد اور جانبداری کا تاثر ملتا ہے، ریمارکس سے پارلیمنٹ کی خود مختاری پر ضرب پڑنے کا تاثر ملتا ہے،سپیکر قومی اسمبلی کو ایوان نے منتخب کیا یہ فیصلہ ایوان کے 342 اراکین اور اسپیکر کے استحقاق کو مجروح کرتا ہے،سپیکر کا دفتر کوئی تحقیقاتی ادارہ نہیں،عدالت نے دس ماہ تک درخواستوں پر سماعت کی۔ سپیکر کی جانب سے ریفرنس آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت دائر کیا جائے گا، سپیکر کے ذمہ داری ادا نہ کرنے پر درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا گیا تھا۔قانونی ماہرین کے مطابق ریفرنس دائر کیے جانے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل ابتدائی سماعت کرکے ریفرنس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے گی۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں ہائی کورٹس کے دو چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور پاناما بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کیخلاف 5 صفحات پر مشتمل ریفرنس دائر کردیا ، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ پانامہ فیصلے میں عدالتی بینچ میں موجود جج میں سے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے اور اسپیکر قومی اسمبلی

کو نوازشریف کا وفادار قرار دیا جو حقائق کے منافی ہے جب کہ اسپیکر کے خلاف ریمارکس سے معزز جج کے ذاتی عناد یا جانبداری جھلکتی ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلے میں لکھا کہ اسپیکر معاملے کی تحقیقات میں ناکام رہے، فیصلے میں لکھا گیا کہ اسپیکر نے معاملہ الیکشن کمیشن کو نہیں بھیجا یہ ناکامی ہے۔ریفرنس میں کہا گیا ہے

کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو ایوان نے منتخب کیا یہ فیصلہ ایوان کے 342 اراکین اور اسپیکر کے استحقاق کو مجروح کرتا ہے۔دائر ریفرنس میں اسپیکر اسمبلی نے موقف اختیار کیا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاناما کیس کے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسپیکر نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں اور اس بنیاد پر پاناما کیس سے متعلق درخواستوں کو

قابل سماعت قرار دیا۔ ایاز صادق نے ریفرنس میں کہا کہ اسپیکر کو وزیراعظم کا وفادار اور جانبدار قرار دینا حقائق کے منافی ہے، اسپیکر ایوان کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے اور اسپیکر کا دفتر کوئی تحقیقاتی ادارہ نہیں ہوتا، جب کہ سپریم کورٹ نے دس ماہ تک پاناما سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا اور اسپیکر کا اس حوالے سے

کوئی کردار نہیں تھا۔ریفرنس میں کہا گیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف ریمارکس سے ذاتی عناد اور جانبداری کا تاثر ملتا ہے، معزز جج کے ان ریمارکس سے کئی منفی سوالات پیدا ہوگئے ہیں، عہدے پر برقرار رہنے سے معزز جج صاحب کو مزید متنازع فیصلوں کا موقع ملے گا۔دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ریفرنس کو عدلیہ کے

خلاف سازش قرار دے دیا۔ سیکرٹری سپریم کورٹ بار آفتاب باجوہ نے کہا کہ عدلیہ کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی قبول نہیں، سپریم کورٹ کے جج معزز ہیں اور سپریم کورٹ بار عدلیہ کے ساتھ ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق ریفرنس دائر کیے جانے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل ابتدائی سماعت کرکے ریفرنس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے گی۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں ہائی کورٹس کے دو چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…