بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

رپورٹ کس نے لکھی؟اس پر ٹھمکے لگانے کی ضرورت نہیں۔۔! اسحاق ڈار شدید مشتعل،دھماکہ خیز انکشافات

datetime 23  جولائی  2017 |

لاہور( این این آئی)وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سیاسی تماشہ لگانے والے فیصلہ کر لیں ملک کو کہاں لے کر جانا ہے ،جے آئی ٹی نے جو تفتیش کی اس سے بہتر تو ایک ایس ایچ او کر سکتا تھااسی لئے ہم کہتے ہیں کہ جے آئی ٹی نے قوم کا وقت اور پیسہ ضائع کیا ،جے آئی ٹی نے خود مہر ثبت کر دی ہے کہ نواز شریف کے خلاف ریاست کی ایک پائی کی خرد برد،کرپشن، کک بیکس ثابت نہیں ہوئی،میرے دونوں بیٹے 2003ء سے خود مختار ہیں،

ان کے پاکستان میں کاروبار کرنے پر اس لئے پابندی لگائی تاکہ کوئی الزام نہ لگے ۔ ایک قومی جریدے کو انٹر ویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کیوں مستعفی ہوں، انہوں نے کیا جرم کیا ہے ۔ نواز شریف کے خلاف یہ سازس نئی اور نہ ہی آخری ہے ، سازشوں کے عنوان اور کرنے والے بدلتے رہتے ہیں۔ دھرنا تھری کی تیاری ہو رہی ہے لیکن اس بار بھی مخالفین نہ صرف ناکام ہوں گے بلکہ سازش کرنے والے بھی بے نقاب ہوں گے ۔ سپریم کورٹ جے آئی ٹی کے جھوٹ کے پلندے کو آئین و قانون کے مطابق مسترد کر دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے ارکان جانبدار تھے ، انہیں کس نے اجازت دی کہ وہ کسی کو جھوٹا ،فریبی کہیں۔ سوال یہ ہے کہ 256صفحات کی رپورٹ کس نے لکھی ، رپورٹ میں تو صاف طور پر عمران خان کا بیان رکھ دیا گیا ہے اسی لئے تو ہم کہتے ہیں کہ رپورٹ میں سے عمران خان اور شیخ رشید نکلے ہیں ۔رپورٹ سے خدشہ، امکان، توقع اور اندیشے کے الفاظ نکال دیں تو خیالات کامجموعہ رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی تقدیر پاکستان کے اندر یا باہر سازشی عناصر کو ٹھیکے پر نہیں دی جا سکتی ،اپوزیشن نے پانامہ لیکس کو سیاسی بیساکھی کے طو رپر استعمال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں پیشہ ور تاجر ہوں مجھے ٹیکس بچانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔سوئی سے مرسٹڈیز تک ہر چیز کا حساب دیا ،

میں خیرات کھانے والوں میں سے نہیں بلکہ دینے والوں میں سے ہوں ۔ 2004-05ء میں ہجویری ٹرسٹ کے نام سے ادارہ بنایا جہاں 92یتیم بچے ہیں اور اسے 8کروڑ16لاکھ روپے خیرات کئے ، میرے مرنے کے بعد سب کچھ یتیم بچوں کو ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بہت سے کاغذات پر دستخط نہیں ، بہت سے ایسے ہیں جو پڑھنے کے قابل نہیں ، جے آئی ٹی والے جلدی میں تھے یا بالکل ہی پیدل تھے ۔ انہوں نے کہا کہ 13معزز ججز حدیبیہ پیپر ملز کے معاملے کو نمٹا چکے ہیں،

عدالتی حکم ہے کہ اس کیس کو ری اوپن نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے یکطرفہ ٹریفک چلائی اس نے جو کام کیا وہ دو ماہ میں نہیں ہو سکتا، یہ سال ڈیڑھ سال کی تیاری لگتی ہے۔ پانامہ کے ڈائریکٹر ملک سے باہر بیٹھے ہیں اور اداکار ملک کے اندر ہیں مرکزی کردار عمران خان کا ہے ، رپورٹ پر ٹھمکے لگانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے سول حکمرانوں میں کیا مینو فیکچرننگ ڈیفکٹ ہے ، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہر سیاسی حکومت کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت کو نہ روکا گیا تو اگلے دس برسوں میں پاکستان ایشیاء کا مرکز ملک ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…